Tanzeem ul Madaris Solved Guess Paper 2025 | PDF (طلباء کے لیے)عالمیہ سال اول


مکمل حل شدہ پرچہ نمبر 1: علم الکلام (شرح عقائد نسفی)

سوال نمبر 1: حقائقِ اشیاء، ذرائع علم اور سوفسطائیہ کا رد
 جواب:
  • حقائقِ اشیاء: اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ اشیاء کے حقائق ثابت اور یقینی ہیں (مثلاً آگ گرم ہے، زمین ساکن ہے)۔ یہ محض وہم یا خیال نہیں ہیں۔
  • ذرائع علم (اسبابِ علم): علم حاصل کرنے کے تین بڑے ذرائع ہیں:
    1. حواسِ خمسہ ظاہرہ: دیکھنا، سننا، سونگھنا، چکھنا اور چھونا۔
    2. خبرِ صادق: اس کی دو قسمیں ہیں؛ (الف) خبرِ متواتر (جس سے علمِ ضروری حاصل ہوتا ہے)۔ (ب) قولِ رسول ﷺ (جس سے علمِ استدلالی حاصل ہوتا ہے)۔
    3. عقل: وہ ذریعہ جس سے بدیہی اور استدلالی حقائق معلوم ہوتے ہیں۔
  • سوفسطائیہ کا رد: سوفسطائیہ حقائق کا انکار کرتے ہیں۔ ان کا رد یہ ہے کہ ان کا یہ کہنا کہ “کوئی حقیقت نہیں” خود ایک دعویٰ ہے، اگر یہ سچا ہے تو حقیقت ثابت ہو گئی، اور اگر جھوٹا ہے تو بھی حقیقت ثابت ہے۔

سوال نمبر 2: اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات (قدیم و حادث کی بحث)
 جواب:
  • ذاتِ باری تعالیٰ: اللہ تعالیٰ واجب الوجود ہے، وہ نہ تو “جوہر” ہے (جو جگہ گھیرے)، نہ “جسم” ہے اور نہ ہی “عرض” (جو دوسروں کے تابع ہو)۔
  • صفات کا قدیم ہونا: اہل سنت کے نزدیک اللہ کی صفات (علم، قدرت، حیات وغیرہ) اس کی ذات پر زائد ہیں اور قدیم ہیں۔ یہ نہ تو عینِ ذات ہیں اور نہ ہی غیرِ ذات (یعنی ذات سے جدا نہیں کی جا سکتیں)۔
  • کلامِ الٰہی: قرآن اللہ کا کلام ہے۔ اہل سنت کے نزدیک “کلامِ نفسی” قدیم ہے، جبکہ وہ الفاظ اور آوازیں جو ہم پڑھتے ہیں وہ “حادث” اور مخلوق ہیں۔ معتزلہ کلام کو مخلوق مانتے ہیں جو کہ غلط ہے۔

سوال نمبر 3: انسانی افعال، خلق اور کسب کا مسئلہ
جواب:
  • خالقِ افعال: اللہ تعالیٰ ہی بندوں کے تمام افعال (نیکی اور بدی) کا خالق ہے۔ کوئی ذرہ اس کی تخلیق کے بغیر حرکت نہیں کر سکتا۔
  • مسئلہ کسب: اگر اللہ خالق ہے تو بندہ کیوں ذمہ دار ہے؟ اس کا جواب “کسب” ہے۔ اللہ فعل کو “پیدا” کرتا ہے جبکہ بندہ اپنی قدرت اور ارادے سے اسے “اختیار” کرتا ہے۔ اسی اختیار (کسب) پر جزا اور سزا ملتی ہے۔
  • ارادہ اور رضا: اللہ تعالیٰ برائی کا ارادہ تو کرتا ہے (کائناتی نظام کے تحت) مگر وہ برائی سے راضی نہیں ہوتا۔ نیکی سے وہ راضی بھی ہے اور اس کا ارادہ بھی فرماتا ہے۔

سوال نمبر 4: نبوت، معجزہ اور عصمتِ انبیاء
تحقیقی جواب:
  • نبوت: یہ اللہ کا عطیہ ہے، محنت سے حاصل نہیں کی جا سکتی۔ اللہ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے بشر ہی کو نبی بنا کر بھیجا۔
  • معجزہ: وہ خرقِ عادت کام جو مدعیِ نبوت سے اس کی سچائی کی دلیل کے طور پر ظاہر ہو۔ (مثلاً معجزہِ قرآن، شق القمر)۔
  • عصمت: تمام انبیاء گناہوں (کبیرہ و صغیرہ) سے پاک اور معصوم ہوتے ہیں۔ نبوت سے پہلے اور بعد میں ان سے جان بوجھ کر گناہ ہونا محال ہے۔

سوال نمبر 5: معاد (آخرت)، حشر و نشر اور شفاعت
 جواب:
  • اعادہِ معدوم: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ جسم کے انہی اجزاء کو دوبارہ جمع فرمائے گا جو دنیا میں تھے، یہ اللہ کی قدرت میں ہے۔
  • شفاعت: حضور ﷺ کی شفاعتِ کبریٰ برحق ہے، یہاں تک کہ وہ کبیرہ گناہ کرنے والے مومنوں کے لیے بھی شفاعت فرمائیں گے۔ معتزلہ گناہگار کے لیے شفاعت کے منکر ہیں جو کہ احادیث کے خلاف ہے۔
  • جنت و دوزخ: یہ دونوں اس وقت بھی موجود (پیدا شدہ) ہیں۔ یہ کبھی ختم نہیں ہوں گی، ان میں رہنے والے ہمیشہ رہیں گے۔

سوال نمبر 6 (اضافی و اہم): ایمان کی تعریف اور کمی و بیشی
تحقیقی جواب:
  • ایمان کی حقیقت: ایمان دل سے تصدیق کرنے کا نام ہے۔ زبان سے اقرار کرنا دنیاوی احکام (جنازہ، نکاح) کے لیے شرط ہے۔
  • ایمان میں کمی بیشی: امام ابوحنیفہ کے نزدیک اصل ایمان (تصدیق) میں کمی یا زیادتی نہیں ہوتی، کیونکہ تصدیق یا تو ہوتی ہے یا نہیں ہوتی۔ البتہ اعمال کے اعتبار سے ایمان کے نور اور ثمرات میں کمی بیشی ہوتی ہے۔

مکمل حل شدہ پرچہ نمبر 2: علم الفرائض (سراجی)
سوال نمبر 1: علم الفرائض کی اہمیت، حقوقِ متعلقہ بالترکہ اور ترتیبِ تقسیم
تحقیقی جواب:
  • علم الفرائض کی اہمیت: حضور ﷺ نے فرمایا: “فرائض سیکھو اور لوگوں کو سکھاؤ، کیونکہ یہ نصف علم ہے”۔ اسے نصف علم اس لیے کہا گیا کہ انسانی زندگی کے دو ہی حال ہیں؛ موت یا حیات۔ یہ علم موت سے متعلق احکام کا احاطہ کرتا ہے۔
  • حقوقِ متعلقہ بالترکہ (چار حقوق): جب کوئی شخص فوت ہو تو اس کے مال سے بالترتیب یہ چار کام کیے جائیں گے:
    1. تجہیز و تکفین: سنت کے مطابق کفن دفن کا خرچہ۔
    2. ادائے قرض: اگر میت پر کسی کا قرض ہو تو وہ پورے مال سے ادا کیا جائے گا۔
    3. وصیت کا نفاذ: قرض کی ادائیگی کے بعد بچے ہوئے مال کے تہائی (1/3) حصے سے جائز وصیت پوری کی جائے گی۔
    4. تقسیمِ میراث: باقی ماندہ مال ورثاء میں تقسیم ہوگا۔

سوال نمبر 2: ذوی الفروض کے احوال (باپ، ماں، بیٹی اور پوتی)
تحقیقی جواب: علم الفرائض میں ذوی الفروض وہ وارث ہیں جن کے حصے قرآن میں طے ہیں۔
  1. باپ کے 3 حال: (1) سدس (1/6) اگر بیٹا یا پوتا ہو۔ (2) سدس مع العصبہ اگر صرف بیٹی یا پوتی ہو۔ (3) محض عصبہ اگر کوئی اولاد نہ ہو۔
  2. ماں کے 3 حال: (1) سدس (1/6) اگر اولاد ہو یا دو بھائی بہن ہوں۔ (2) ثلث (1/3) اگر اولاد نہ ہو اور ایک سے زائد بھائی بہن نہ ہوں۔ (3) ثلثِ باقیہ (مشرکہ مسائل میں)۔
  3. بیٹی کے 3 حال: (1) نصف (1/2) اگر اکیلی ہو۔ (2) ثلثان (2/3) اگر دو یا دو سے زیادہ ہوں۔ (3) عصبہ بالغیر اگر بھائی کے ساتھ ہو۔
  4. پوتی کے 6 حال: ان میں سب سے اہم یہ ہے کہ اگر ایک بیٹی ہو تو پوتی کو “تکملہ للثلثین” (2/3 مکمل کرنے کے لیے) سدس (1/6) ملتا ہے۔

سوال نمبر 3: عصبات کی اقسام اور ترتیبِ ترجیح
تحقیقی جواب: عصبہ وہ ہے جو ذوی الفروض سے بچا ہوا مال لے لے۔ اس کی تین قسمیں ہیں:
  1. عصبہ بنفسہ: وہ مرد جس کے اور میت کے درمیان کوئی عورت نہ آئے (مثلاً بیٹا، باپ، بھائی، چچا)۔
  2. عصبہ بالغیر: وہ عورت جو اپنے بھائی کی وجہ سے عصبہ بنے (مثلاً بیٹی بیٹے کے ساتھ)۔
  3. عصبہ مع الغیر: وہ عورت جو دوسری عورت کے ساتھ مل کر عصبہ بنے (مثلاً بہن بیٹی کے ساتھ)۔
  • قاعدہ ترجیح: قریب والا دور والے کو محروم کر دیتا ہے۔ بیٹا موجود ہو تو پوتا محروم، باپ ہو تو دادا محروم۔

سوال نمبر 4: حجب (محرومی) کی تعریف اور اقسام
تحقیقی جواب: حجب کا معنی ہے رکاوٹ۔ اس کی دو بڑی قسمیں ہیں:
  1. حجبِ حرمان: وارث کو سرے سے حصے سے محروم کر دینا (مثلاً بھائی کی موجودگی میں بھتیجا محروم
    • نوٹ: پانچ وارث کبھی محروم نہیں ہوتے: باپ، ماں، شوہر، بیوی اور اولاد۔
  2. حجبِ نقصان: ایک وارث کی موجودگی سے دوسرے کا حصہ کم ہو جانا (مثلاً اولاد کی وجہ سے شوہر کا حصہ نصف سے کم ہو کر ربع رہ جانا)۔

سوال نمبر 5: عول، رد اور مخارجِ میراث (تکنیکی بحث)
تحقیقی جواب:
  • عول: جب ورثاء کے حصوں کا مجموعہ مخرج (اصل مسئلہ) سے بڑھ جائے، تو مخرج کو بڑھا دیا جاتا ہے۔ عول صرف 6، 12 اور 24 والے مسائل میں ہوتا ہے۔
  • رد: جب ذوی الفروض کو حصے دینے کے بعد مال بچ جائے اور کوئی عصبہ نہ ہو، تو وہ مال دوبارہ ان پر تقسیم ہوتا ہے۔ یہ “رد” شوہر اور بیوی پر نہیں ہوتا۔
  • مخارج: میراث کے کل 7 مخارج ہیں: 2، 3، 4، 6، 8، 12، 24۔

سوال نمبر 6 (اضافی): مناسخہ اور اس کا طریقہ کار
تحقیقی جواب: اگر میراث تقسیم ہونے سے پہلے کسی وارث کا انتقال ہو جائے تو اسے مناسخہ کہتے ہیں۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے میتِ اول کا مسئلہ حل کریں، پھر میتِ ثانی کا، اور پھر دونوں کے درمیان نسبت (تماثل، تداخل، توافق، تباین) دیکھ کر انہیں ایک “جامع مسئلہ” میں جمع کر دیں۔ یہ سوال پرچے میں ایک عملی ریاضیاتی سوال کے طور پر آتا ہے۔

سوال نمبر 7 (اضافی): موانعِ ارث (وارث نہ بننے کی وجوہات)
تحقیقی جواب: چار چیزیں ایسی ہیں جو وارث کو وراثت سے محروم کر دیتی ہیں:
  1. غلامی: غلام اپنے آقا کا وارث نہیں ہوتا۔
  2. قتل: اگر وارث نے میت کو قتل کر دیا ہو تو وہ محروم ہوگا۔
  3. اختلافِ دین: کافر مسلمان کا اور مسلمان کافر کا وارث نہیں ہوتا۔
  4. اختلافِ دار: (غیر مسلموں کے لیے) اگر ان کے ممالک الگ الگ ہوں۔

مکمل حل شدہ پرچہ نمبر 3: الفقہ وأصوله

قسم اول: الفقہ (ہدایہ – کتاب الشفعہ و کتاب الاضحیہ)

سوال نمبر 1: شفعہ کی تعریف، درجاتِ شفعہ اور اس کی شرائط۔ تحقیقی جواب:
  • شفعہ کی تعریف: فروخت شدہ جائیداد کو اس قیمت پر حاصل کر لینے کا حق جو خریدار نے ادا کی ہے، تاکہ پڑوس یا شرکت کی وجہ سے ہونے والے نقصان (ضرر) سے بچا جا سکے۔
  • مستحقینِ شفعہ (درجات): احناف کے نزدیک شفعہ کے تین درجے ہیں:
    1. شفیعِ خلیط (شریکِ مشاع): وہ جو زمین کی اصل ملکیت میں شریک ہو۔
    2. شفیعِ خلیط فی الحقوق: وہ جو زمین کے حقوق (مثلاً راستہ یا پانی) میں شریک ہو۔
    3. شفیعِ جار (پڑوسی): مبیع (فروخت شدہ چیز) سے متصل دیوار والا پڑوسی۔
  • شفعہ کی شرائط: شفعہ صرف غیر منقولہ جائیداد (مکان، زمین) میں ہوتا ہے۔ یہ حق تب ثابت ہوتا ہے جب مالک اپنی ملکیت دوسرے کو منتقل کر دے۔
سوال نمبر 2: طلبِ شفعہ کے طریقے اور اس کے ساقط ہونے کی وجوہات۔ تحقیقی جواب: شفعہ کا حق حاصل کرنے کے لیے تین طرح کے مطالبے ضروری ہیں:
  1. طلبِ مواثبت: جیسے ہی سودے کی خبر ملے، اسی وقت مطالبہ کرنا۔
  2. طلبِ اشہاد: گواہ بنا کر بائع، مشتری یا زمین کے پاس جا کر مطالبہ کرنا۔
  3. طلبِ خصومت: عدالت میں دعویٰ دائر کرنا۔
  • سقوطِ شفعہ: اگر شفیع صلح کر لے، یا خریداری پر راضی ہو جائے، یا مطالبہ کرنے میں تاخیر کر دے (بغیر کسی عذر کے)، تو شفعہ کا حق ختم ہو جاتا ہے۔
سوال نمبر 3: کتاب الاضحیہ (قربانی) کے احکام۔ تحقیقی جواب:
  • حکم: صاحبِ نصاب پر قربانی کرنا واجب ہے۔ (امام ابوحنیفہ کے نزدیک)۔
  • وقت: 10 ذوالحجہ کی صبح (شہر میں نمازِ عید کے بعد) سے لے کر 12 ذوالحجہ کے غروبِ آفتاب تک۔
  • عیوب: ایسا جانور جس کا کان، دُم یا آنکھ کا ایک تہائی سے زیادہ حصہ ضائع ہو، یا جو اتنا لنگڑا ہو کہ ذبح کی جگہ تک نہ جا سکے، اس کی قربانی جائز نہیں۔

قسم دوم: اصولِ الفقہ (توضیح و تلویح)

سوال نمبر 4: فقہ کی اصطلاحی تعریف اور اس کی قیود کی وضاحت۔ تحقیقی جواب:
  • تعریف: “الفقہ معرفۃ النفس مالھا وما علیھا” (فقہ نفس کا اپنے حقوق اور ذمہ داریوں کو پہچاننا ہے)۔ یہ امام اعظم کی تعریف ہے۔
  • متاخرین کی تعریف: “العمل بالاحکام الشرعیہ الفرعیہ من ادلتھا التفصیلیہ” (تفصیلی دلائل سے فرعی شرعی احکام کو جاننا)۔
  • وضاحت: “فرعیہ” کی قید سے عقائد نکل گئے، اور “تفصیلیہ” کی قید سے مقلد کا علم نکل گیا کیونکہ وہ صرف امام کے قول کو جانتا ہے، دلیل کو نہیں۔
سوال نمبر 5: حکمِ شرعی، حاکم اور محکوم فیہ کی بحث۔ تحقیقی جواب:
  • حکمِ شرعی: اللہ تعالیٰ کا وہ خطاب جو مکلفین کے افعال سے متعلق ہو۔
  • اقسام: (1) تکلیفی: وجوب، ندب، حرمت، کراہت، اباحت۔ (2) وضعی: سبب، شرط، مانع۔
  • عزیمت و رخصت: وہ حکم جو اصل قانون ہو اسے “عزیمت” کہتے ہیں (جیسے چار رکعت) اور جو عذر کی وجہ سے بدلے اسے “رخصت” کہتے ہیں (جیسے سفر میں قصر)۔
سوال نمبر 6: سنت، اجماع اور قیاس بطورِ ادلہ شرعیہ۔ تحقیقی جواب:
  • سنت: حضور ﷺ کے قول، فعل اور تقریر (خاموشی) کو سنت کہتے ہیں۔ یہ قرآن کے بعد دوسرا بڑا ماخذ ہے۔
  • اجماع: کسی ایک زمانے کے تمام مجتہدین کا کسی شرعی مسئلے پر متفق ہو جانا۔ یہ قطعی دلیل ہے۔
  • قیاس: کسی نئے مسئلے کا حکم نص (قرآن و سنت) میں موجود مسئلے کی علت (Reason) کی بنیاد پر معلوم کرنا۔ قیاس کے چار ارکان ہیں: اصل، فرع، علت اور حکم۔
سوال نمبر 7 (اضافی): حروف کے معانی (و، فا، ثُم، بل) اور ان کا فقہی اثر۔ تحقیقی جواب: اصولِ فقہ میں حروفِ عاطفہ کا مطالعہ بہت اہم ہے:
  1. واؤ (و): یہ صرف جمع کے لیے ہے، ترتیب کے لیے نہیں۔ (مثلاً وضو کے اعضاء میں ترتیب احناف کے نزدیک فرض نہیں کیونکہ قرآن میں “و” استعمال ہوا ہے)۔
  2. فاء (ف): یہ تعقیب (فوراً بعد) کے لیے ہے۔
  3. ثُمَّ: یہ تراخی (مہلت اور تاخیر) کے لیے ہے۔

مکمل حل شدہ پرچہ نمبر 4: أصول الحديث وأصول التحقيق

قسم اول: اصولِ حدیث (نخبۃ الفکر)
سوال نمبر 1: خبر کی تقسیم (تعدادِ روات کے اعتبار سے)۔ تحقیقی جواب: راویوں کی تعداد کے اعتبار سے خبر کی دو بڑی قسمیں ہیں:
  1. خبرِ متواتر: وہ حدیث جسے ہر زمانے میں اتنے زیادہ لوگوں نے روایت کیا ہو کہ ان سب کا جھوٹ پر متفق ہونا محال ہو۔ یہ علمِ یقینی کا فائدہ دیتی ہے۔
  2. خبرِ واحد: وہ حدیث جس کے راوی متواتر کی حد سے کم ہوں۔ اس کی تین ذیلی قسمیں ہیں:
    • مشہور: جس کے راوی ہر طبقے میں کم از کم تین ہوں۔
    • عزیز: جس کے راوی کسی بھی طبقے میں دو سے کم نہ ہوں۔
    • غریب: جس کی سند میں کسی بھی جگہ صرف ایک راوی رہ جائے۔
سوال نمبر 2: مقبول حدیث کی اقسام (صحیح اور حسن)۔ تحقیقی جواب: مقبول حدیث وہ ہے جس پر عمل کرنا واجب ہو۔ اس کی چار بنیادی قسمیں ہیں:
  1. صحیح لذاتہ: جس میں پانچ شرائط ہوں: (1) سند متصل ہو۔ (2) تمام راوی عادل ہوں۔ (3) تمام راوی ضابط (مضبوط حافظے والے) ہوں۔ (4) حدیث شاذ نہ ہو۔ (5) حدیث میں کوئی پوشیدہ علت (خرابی) نہ ہو۔
  2. صحیح لغیرہ: وہ حسن لذاتہ جو متعدد سندوں سے مروی ہونے کی وجہ سے صحیح کے درجے تک پہنچ جائے۔
  3. حسن لذاتہ: جس کے راوی کا ضبط (حافظہ) صحیح کے راوی سے تھوڑا کم ہو، باقی شرائط وہی ہوں۔
  4. حسن لغیرہ: وہ ضعیف حدیث جس کی کمزوری معمولی ہو اور وہ کئی طریقوں سے مروی ہو۔
سوال نمبر 3: مردود حدیث کی اقسام (سقطِ سند اور طعنِ راوی)۔ تحقیقی جواب: حدیث کے مردود (رد کیے جانے) کی دو بڑی وجوہات ہیں:
  1. سقطِ سند (سند کا ٹوٹنا): اس کی قسمیں ہیں: مرسل (صحابی گرا ہوا ہو)، معضل (پے در پے دو راوی گرے ہوں)، منقطع (درمیان سے ایک راوی غائب ہو)۔
  2. طعنِ راوی (راوی پر اعتراض): اگر راوی جھوٹا ہو تو حدیث “موضوع” (من گھڑت)، اگر کثیر الغلط ہو تو “منکر”، اور اگر اس کا حافظہ برا ہو تو “شاذ” کہلاتی ہے۔

قسم دوم: اصولِ تحقیق (Methods of Research)

سوال نمبر 4: تحقیق کا مفہوم، اہمیت اور مراحل۔ تحقیقی جواب:
  • مفہوم: تحقیق کا لغوی معنی “حق کو ثابت کرنا” ہے۔ اصطلاح میں کسی خاص موضوع پر علمی حقائق کی تلاش اور ان کی نئے سرے سے ترتیب و تدوین کو تحقیق کہتے ہیں۔
  • مراحل:
    1. موضوع کا انتخاب: ایسا موضوع جو نیا ہو اور جس پر مواد دستیاب ہو۔
    2. خاکہ سازی (Synopsis): مقالے کے ابواب اور فصول کی فہرست بنانا۔
    3. جمعِ مواد: کتب خانوں اور ڈیجیٹل مآخذ سے معلومات اکٹھی کرنا۔
    4. تجزیہ و نگارش: حاصل شدہ معلومات کو علمی اسلوب میں لکھنا۔
    5. نتائج و سفارشات: تحقیق کے آخر میں اپنا حاصلِ مطالعہ بیان کرنا۔
سوال نمبر 5
: مآخذ و مراجع اور حواشی (Footnotes) کے طریقے ۔ 
  • جواب:
  • مآخذ و مراجع: جن کتابوں سے مدد لی جائے، ان کی فہرست مقالے کے آخر میں حروفِ تہجی کی ترتیب سے دی جاتی ہے۔
  • حواشی نگاری: ہر صفحے کے آخر میں حوالہ دینا ضروری ہے۔ اس کے دو مشہور طریقے ہیں:
    1. روایتی طریقہ: (کتاب کا نام، مصنف، جلد/صفحہ، مطبع)۔
    2. جدید طریقہ (APA یا MLA): (مصنف کا نام، سالِ اشاعت، صفحہ)۔
سوال نمبر 6 (اضافی): علمی چوری (Plagiarism) اور اس سے بچاؤ۔
 جواب: تحقیق میں سب سے بڑی اخلاقی خرابی دوسرے کے کام کو بغیر حوالہ دیے اپنے نام سے منسوب کرنا ہے۔ ایک محقق کے لیے ضروری ہے کہ وہ “دیانت داری” سے کام لے اور جہاں سے بھی فائدہ اٹھائے، اس کا حوالہ (Citation) لازمی دے۔

مکمل حل شدہ پرچہ نمبر 5: الحدیث الشریف (طحاوی شریف)

سوال نمبر 1: امام طحاوی کا طریقہ استدلال اور کتاب کا اسلوب۔
 جواب:
  • طریقہ استدلال: جب دو احادیث میں بظاہر اختلاف نظر آتا ہے (مثلاً ایک میں ایک کام کرنے کا حکم ہو اور دوسری میں ممانعت)، تو امام طحاوی پہلے ان احادیث کو ذکر کرتے ہیں، پھر ان کے ناسخ و منسوخ ہونے پر بحث کرتے ہیں، اور آخر میں “نظر” (عقلی دلیل) سے ثابت کرتے ہیں کہ فقہِ حنفی کا موقف سنت کے زیادہ قریب ہے۔
  • منہج: امام طحاوی صرف حدیث کے الفاظ نہیں دیکھتے بلکہ اس کے پیچھے چھپی ہوئی علت (Reason) اور روحِ شریعت کو بھی سامنے رکھتے ہیں۔

سوال نمبر 2: کتاب الصلاۃ – اوقاتِ نماز (ظہر اور عصر)۔
 جواب:
  • ظہر کا وقت: امام طحاوی کے نزدیک ظہر کا وقت تب تک رہتا ہے جب تک ہر چیز کا سایہ اس کے اصل سائے کے علاوہ دو مثل (Double) نہ ہو جائے۔ (یہ امام اعظم کا قولِ مختار ہے)۔
  • عصر کا وقت: عصر کی نماز میں تھوڑی تاخیر (ابراد) مستحب ہے تاکہ لوگ سہولت سے باجماعت نماز ادا کر سکیں۔
  • دلیل: امام طحاوی ان احادیث سے استدلال کرتے ہیں جن میں حضور ﷺ نے سخت گرمی میں ظہر کو ٹھنڈا کر کے پڑھنے کا حکم دیا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ظہر کا وقت طویل ہے۔

سوال نمبر 3: قراءت خلف الامام کا مسئلہ۔
 جواب:
  • اختلاف: ائمہ ثلاثہ کے نزدیک مقتدی پر سورہ فاتحہ پڑھنا ضروری ہے، جبکہ احناف کے نزدیک مقتدی کے لیے امام کی قراءت ہی کافی ہے۔
  • امام طحاوی کا استدلال: آپ وہ احادیث لاتے ہیں جن میں ہے: “جس کا امام ہو، تو امام کی قراءت اس کی اپنی قراءت ہے“۔
  • عقلی دلیل (نظر): جس طرح امام کے “سمع اللہ لمن حمدہ” کہنے پر مقتدی کو خاموش رہ کر “ربنا لک الحمد” کہنا ہوتا ہے، اسی طرح امام کی قراءت پر مقتدی کا وظیفہ “خاموشی اور سماعت” ہے۔

سوال نمبر 4: وتر کی رکعات اور قنوتِ وتر۔
 جواب:
  • رکعات: احناف کے نزدیک وتر کی تین رکعات ہیں جو ایک سلام کے ساتھ پڑھی جاتی ہیں۔
  • دلائل: امام طحاوی حضرت عائشہ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم کی روایات سے ثابت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ تین رکعت وتر پڑھتے تھے اور درمیان میں سلام نہیں پھیرتے تھے۔
  • دعائے قنوت: احناف کے نزدیک رکوع سے پہلے تکبیر کہہ کر قنوت پڑھنا سنت ہے، جبکہ دیگر ائمہ کے نزدیک یہ رکوع کے بعد ہے۔ امام طحاوی نے صحابہ کے عمل سے احناف کے موقف کو ترجیح دی ہے۔

سوال نمبر 5: بیع اور تجارت کے مسائل (خیارِ شرط)۔
 جواب:
  • خیارِ شرط: سودا کرتے وقت یہ شرط رکھنا کہ مجھے تین دن تک اس سودے کو برقرار رکھنے یا منسوخ کرنے کا اختیار ہے۔
  • احناف کا موقف: یہ جائز ہے کیونکہ حضور ﷺ نے حضرت حبان بن منقذ رضی اللہ عنہ کو دھوکے سے بچنے کے لیے تین دن کے اختیار کی اجازت دی تھی۔ امام طحاوی نے ثابت کیا کہ یہ حکم عام ہے اور تجارت میں سہولت کے لیے ہے۔

سوال نمبر 6 (اضافی): طلاقِ ثلاثہ (ایک مجلس کی تین طلاقیں)۔
 جواب:
  • مسئلہ: اگر کوئی شخص ایک ہی مجلس میں تین بار طلاق دے دے تو احناف کے نزدیک وہ تین ہی واقع ہوں گی اور عورت مغلظہ ہو جائے گی۔
  • استدلال: امام طحاوی حضرت عویمر عجلانی اور دیگر صحابہ کے واقعات سے ثابت کرتے ہیں کہ صحابہ کے دور میں اسے تین ہی شمار کیا جاتا تھا، اگرچہ یہ طریقہ ناپسندیدہ (بدعی) ہے مگر حکم کے اعتبار سے نافذ ہو جاتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *