Tanzeem ul Madaris Solved Guess Paper 2026 | PDF (طلباء کے لیے) عامہ سال دوم

Guess Paper: تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان

الشہادۃ الثانویۃ العامۃ (میٹرک سال دوم) 

2026 پہلا پرچہ: قرآن مجید و فقہ


حصہ اول: ترجمۃ القرآن

سوال نمبر 1: مندرجہ ذیل آیات میں سے صرف پانچ کا سلیس اردو میں ترجمہ کریں۔ 
(1) قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لِمَ تَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ مَنْ آمَنَ تَبْغُونَهَا عِوَجًا وَأَنتُمْ شُهَدَاءُ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ
ترجمہ: تم فرماؤ اے کتابیو! اللہ کی راہ سے اسے کیوں روکتے ہو جو ایمان لایا، اس میں کجی چاہتے ہوئے حالانکہ تم خود گواہ ہو، اور اللہ تمہارے کاموں سے بے خبر نہیں۔
(2) يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَأُولَئِكَ مِنَ الصَّالِحِينَ
ترجمہ: اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لاتے ہیں اور بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے منع کرتے ہیں اور نیک کاموں میں دوڑتے ہیں، اور یہ لوگ صالحین (نیکوں) میں سے ہیں۔
(3) فَإِذَا أُحْصِنَّ فَإِنْ أَتَيْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَيْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنَاتِ مِنَ الْعَذَابِ ذَلِكَ لِمَنْ خَشِيَ الْعَنَتَ مِنْكُمْ وَأَنْ تَصْبِرُوا خَيْرٌ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ۔
ترجمہ: پھر جب وہ قید (نکاح) میں آ جائیں اور برائی کا کام کریں تو ان پر اس سزا کی آدھی ہے جو آزاد عورتوں پر ہے، یہ اس کے لیے ہے جسے تم میں سے زنا کا اندیشہ ہو، اور صبر کرنا تمہارے لیے بہتر ہے، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
(4) يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ أُحِلَّتْ لَكُمْ بَهِيمَةُ الْأَنْعَامِ إِلَّا مَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ غَيْرَ مُحِلِّي الصَّيْدِ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ إِنَّ اللَّهَ يَحْكُمُ مَا يُرِيدُ۔
ترجمہ: اے ایمان والو! اپنے عہد پورے کرو، تمہارے لیے حلال کیے گئے مویشی چوپائے مگر وہ جو تمہیں پڑھ کر سنائے جائیں گے لیکن شکار کو حلال نہ سمجھو جب تم احرام میں ہو، بیشک اللہ جو چاہتا ہے حکم دیتا ہے۔
(5) سَنُلْقِي فِي قُلُوبِ الَّذِينَ كَفَرُوا الرُّعْبَ بِمَا أَشْرَكُوا بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا وَمَأْوَاهُمُ النَّارُ وَبِئْسَ مَثْوَى الظَّالِمِينَ
ترجمہ: اب ہم کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دیں گے اس لیے کہ انہوں نے اللہ کا شریک ٹھہرایا اس چیز کو جس کی اس نے کوئی سند نہ اتاری، اور ان کا ٹھکانا آگ ہے، اور کیا ہی برا ٹھکانا ہے ظالموں کا۔
(6) وَآتُوا الْيَتَامَى أَمْوَالَهُمْ وَلَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِيثَ بِالطَّيِّبِ وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَهُمْ إِلَى أَمْوَالِكُمْ إِنَّهُ كَانَ حُوبًا كَبِيرًا
ترجمہ: اور یتیموں کو ان کے مال دو اور ستھرے کے بدلے گندا نہ لو اور ان کے مال اپنے مالوں میں ملا کر نہ کھاؤ، بیشک یہ بڑا گناہ ہے۔
(7) وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ أَنْ صَدُّوكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ أَنْ تَعْتَدُوا
ترجمہ: اور تمہیں کسی قوم کی دشمنی کہ انہوں نے تم کو مسجد حرام سے روکا تھا، اس پر نہ ابھارے کہ تم زیادتی کرو۔
(8) فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِيثَاقَهُمْ لَعَنَّاهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوبَهُمْ قَاسِيَةً يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَوَاضِعِهِ
ترجمہ: تو ان کی بدعہدی کے سبب ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کے دل سخت کر دیے، وہ کلام (اللہ) کو اس کے مقامات سے بدل دیتے ہیں۔
(1) وضو کی کوئی سی آٹھ سنتیں تحریر کریں۔
جواب: وضو کی آٹھ سنتیں درج ذیل ہیں:
  1. نیت کرنا۔ 2. بسم اللہ پڑھنا۔ 3. دونوں ہاتھوں کو تین بار پہنچوں تک دھونا۔ 4. مسواک کرنا۔ 5. تین بار کلی کرنا۔ 6. تین بار ناک میں پانی ڈالنا۔ 7. داڑھی کا خلال کرنا۔ 8. انگلیوں کا خلال کرنا۔
الوضوء علی ثلاثۃ اقسام کی مثالوں سے وضاحت کریں۔
جواب: وضو کی شرعی حیثیت کے لحاظ سے تین اقسام ہیں:
  1. فرض: نماز (خواہ نفل ہو)، نمازِ جنازہ اور سجدہ تلاوت کے لیے وضو فرض ہے۔
  2. واجب: کعبہ معظمہ کے طواف کے لیے وضو کرنا واجب ہے۔
  3. مستحب: سونے سے پہلے، سو کر اٹھنے کے بعد، غصہ کے وقت، یا دینی کتابیں پڑھنے کے لیے وضو کرنا مستحب ہے۔
سوال نمبر 2: (الف) مذکورہ عبارت پر اعراب اور ترجمہ: عبارت: وَالْمَاءُ الْقَلِيْلُ إِذَا شَرِبَ مِنْهُ حَيَوَانٌ يَكُوْنُ عَلٰی أَرْبَعَةِ أَقْسَامٍ وَيُسَمّٰی سُؤْراً، اَلْأَوَّلُ طَاهِرٌ مُطَهِّرٌ وَهُوَ مَا شَرِبَ مِنْهُ آدَمِیٌّ أَوْ فَرَسٌ۔
ترجمہ: اور تھوڑا پانی جب اس میں سے کوئی جانور پی لے تو (حکم کے اعتبار سے) اس کی چار قسمیں ہوتی ہیں اور اسے “جُھوٹا” کہا جاتا ہے۔ پہلی قسم پاک اور پاک کرنے والا ہے اور یہ وہ پانی ہے جس سے انسان یا گھوڑے نے پیا ہو۔
(ب) وضو کی کوئی سات سنتیں تحریر کریں۔
جواب: 1. نیت کرنا۔ 2. بسم اللہ پڑھنا۔ 3. دونوں ہاتھوں کو پہنچوں تک دھونا۔ 4. مسواک کرنا۔ 5. تین بار کلی کرنا۔ 6. تین بار ناک میں پانی ڈالنا۔ 7. تمام سر کا ایک بار مسح کرنا۔

سوال نمبر 3: (الف) جمعہ کے فرض ہونے کی کوئی پانچ شرائط لکھیں۔
جواب: 1. شہر یا فنائے شہر (بڑے گاؤں) میں ہونا۔ 2. تندرست ہونا (مریض پر فرض نہیں)۔ 3. آزاد ہونا (غلام پر فرض نہیں)۔ 4. مقیم ہونا (مسافر پر فرض نہیں)۔ 5. مرد ہونا (عورتوں پر فرض نہیں)۔
(4) نمازِ خوف کس صورت میں ادا کی جاتی ہے اور طریقہ کیا ہے؟
جواب: صورت: جب دشمن کا سامنا ہو یا درندے کا خوف ہو اور سواری سے اترنا ممکن نہ ہو۔ طریقہ: امام دو گروہ بنا لے گا۔ ایک گروہ دشمن کے سامنے رہے گا، دوسرا امام کے پیچھے آدھی نماز پڑھے گا۔ پھر یہ گروہ دشمن کے سامنے چلا جائے گا اور پہلا گروہ آ کر اپنی بقیہ نماز امام کے بغیر مکمل کرے گا۔ (نوٹ: یہ قدیم جنگی طریقہ ہے، آج کل کی صورتحال میں اگر بالکل بھی ممکن نہ ہو تو اشارے سے بھی پڑھی جا سکتی ہے)۔
(5) نجاست کی اقسام کے نام اور ہر ایک کی دو دو مثالیں لکھیں۔
جواب: نجاست کی دو اقسام ہیں:
  1. نجاستِ غلیظہ: جیسے انسان کا پیشاب، پاخانہ، بہتا ہوا خون۔
  2. نجاستِ خفیفہ: جیسے حلال جانوروں (گائے، بھینس) کا پیشاب یا حرام پرندوں کی بیٹ۔
(6) واجباتِ نماز میں سے دس بیان کریں۔
جواب: 1. الحمد شریف پڑھنا۔ 2. سورت ملانا۔ 3. فرضوں کی پہلی دو رکعتوں میں قرآت کرنا۔ 4. ترتیب قائم رکھنا۔ 5. قومہ (رکوع سے سیدھا کھڑا ہونا)۔ 6. جلسہ (دو سجدوں کے درمیان بیٹھنا)۔ 7. تعدیلِ ارکان۔ 8. قعدہ اولیٰ۔ 9. قعدہ اولیٰ و اخیرہ میں التحیات پڑھنا۔ 10. لفظ “السلام” سے نماز ختم کرنا۔

Guess Paper: تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان

الشہادۃ الثانویۃ العامۃ (میٹرک سال دوم) 

2026 دوسرا پرچہ: صرف (علم الصرف)


حل شدہ پرچہ

سوال نمبر 1: (الف) اسمائے مشتقہ میں سے پانچ کی تعریف کریں۔
جواب: اسم مشتق وہ اسم ہے جو مصدر سے نکلا ہو۔ اس کی پانچ اقسام درج ذیل ہیں:
  1. اسم فاعل: وہ اسم جو اس ذات پر دلالت کرے جس سے فعل صادر ہوا ہو (جیسے: نَاصِرٌ – مدد کرنے والا)۔
  2. اسم مفعول: وہ اسم جو اس ذات پر دلالت کرے جس پر فعل واقع ہوا ہو (جیسے: مَنْصُوْرٌ – جس کی مدد کی گئی)۔
  3. اسم ظرف: وہ اسم جو جگہ یا وقت کے معنی پر دلالت کرے (جیسے: مَسْجِدٌ – سجدہ کرنے کی جگہ)۔
  4. اسم آلہ: وہ اسم جو اس چیز پر دلالت کرے جس کے ذریعے کام کیا جائے (جیسے: مِفْتَاحٌ – چابی)۔
  5. اسم تفضیل: وہ اسم جو ایک کی دوسرے پر زیادتی ظاہر کرے (جیسے: اَکْبَرُ – سب سے بڑا)۔
(ب) خُذْ، اُخْتِيْرَ، مَقُوْلٌ کون سے صیغے ہیں؟ تعلیل مفصل لکھیں۔
جواب:
  1. خُذْ: یہ امر حاضر معروف، واحد مذکر حاضر کا صیغہ ہے۔ اصل میں اُؤْخُذْ تھا، کثرتِ استعمال کی وجہ سے حمزہ حذف کر دیا گیا تو “خُذْ” رہ گیا۔
  2. اُخْتِيْرَ: فعل ماضی مجہول، واحد مذکر غائب، باب افتعال۔ اصل میں اُخْتُيِرَ تھا۔ “ی” متحرک ماقبل مکسور تھی، قاعدہ کے مطابق “ی” کے کسرہ کو ماقبل کی طرف منتقل کیا گیا اور ثقل کی وجہ سے الف سے بدلا گیا (یا یائے ساکن رہی) تو “اُخْتِيْرَ” ہو گیا۔
  3. مَقُوْلٌ: اسم مفعول، واحد مذکر، باب نصر۔ اصل میں مَقْوُوْلٌ تھا۔ واو متحرک ماقبل ساکن، حرکت ماقبل کو دی، دو واو ساکن جمع ہوئے، ایک کو حذف کر دیا گیا تو “مَقُوْلٌ” بن گیا۔
سوال نمبر 2: کوئی سے چار اجزا (خاصے):
  1. تصبیر اور تجنب: تصبیر کا معنی کسی کو صابر بنانا (باب تفعیل)۔ تجنب کا معنی ہے کسی چیز سے بچنا یا دور ہونا (باب تفعل)۔
  2. مبالغہ اور مغالبہ: مبالغہ کا معنی کام میں زیادتی کرنا۔ مغالبہ کا معنی ہے ایک دوسرے پر غالب آنے کی کوشش کرنا۔
  3. بابِ سَمِعَ کے دو خاصے: (1) موافقتِ ثلاثی مجرد (2) اکثر لازم ہوتا ہے۔
  4. بابِ افعال کے دو خاصے: (1) تعدیہ (لازم کو متعدی کرنا) (2) صیرورت (کسی حالت میں داخل ہونا)۔
(3) اسم اور فعل کی وجہ تسمیہ بیان کریں۔
جواب: اسم: یہ “سمو” سے مشتق ہے جس کا معنی بلندی ہے۔ چونکہ اسم اپنے دونوں ساتھیوں (فعل اور حرف) پر بلندی رکھتا ہے کیونکہ یہ مسند اور مسند الیہ دونوں بن سکتا ہے۔ فعل: اس کا لغوی معنی کام ہے۔ چونکہ یہ معنیٰ مصدری (کام) پر دلالت کرتا ہے اس لیے اسے فعل کہتے ہیں۔
(4) فصل فی اصناف اعراب الاسم وهى تسعة اصناف (نو میں سے پانچ لکھیں)
جواب: اسم کے نو اصنافِ اعراب میں سے پانچ درج ذیل ہیں:
  1. رفع ضمہ سے، نصب فتحہ سے، جر کسرہ سے (جیسے مفرد منصرف صحیح)۔
  2. رفع ضمہ سے، نصب و جر کسرہ سے (جیسے جمع مؤنث سالم)۔
  3. رفع ضمہ سے، نصب و جر فتحہ سے (جیسے غیر منصرف)۔
  4. رفع واو سے، نصب الف سے، جر یاء سے (جیسے اسمائے ستہ مکبرہ)۔
  5. رفع الف سے، نصب و جر یاء ماقبل مفتوح سے (جیسے تثنیہ)۔
(5) غیر منصرف کے اسباب تسعہ کے نام لکھیں۔
جواب: غیر منصرف کے نو اسباب یہ ہیں:
  1. عدل، 2. وصف، 3. تانیث، 4. معرفہ (علم)، 5. عجمہ، 6. جمع (منتہی الجموع)، 7. ترکیب، 8. وزنِ فعل، 9. الف نون زائدتان

Guess Paper: تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان

الشہادۃ الثانویۃ العامۃ (میٹرک سال دوم) 

2026 تیسرا پرچہ: نحو (ہدایۃ النحو و شرح مائۃ عامل)


حصہ اول: ہدایۃ النحو

سوال نمبر 1: الأسماء المرفوعات ثمانية أقسام
(الف) تمام اسماء مرفوعہ کے نام اور ایک ایک مثال لکھیں۔
جواب: اسماء مرفوعہ آٹھ ہیں:
  1. فاعل: جیسے “جاءَ زیدٌ“۔
  2. نائب فاعل: جیسے “ضُرِبَ زیدٌ“۔
  3. مبتدا: جیسے “زیدٌ قائمٌ”۔
  4. خبر: جیسے “زیدٌ قائمٌ“۔
  5. خبرِ انَّ (اور اس کے اخوات): جیسے “انَّ زیداً قائمٌ“۔
  6. اسمِ کانَ (اور اس کے اخوات): جیسے “کانَ زیدٌ قائماً”۔
  7. اسمِ ما ولا مشابہ بلیس: جیسے “ما زیدٌ قائماً”۔
  8. لا نفی جنس کی خبر: جیسے “لا رجلَ افضلُ منک”۔
(ب) الف نون زائدتان اور جمع کے غیر منصرف بننے کی شرائط و امثلہ لکھیں۔
جواب:
  • الف نون زائدتان: اگر اسمِ صفت ہو تو شرط یہ ہے کہ اس کا مؤنث “فعلانۃ” کے وزن پر نہ آئے (جیسے: سکران)۔ اگر علم (نام) ہو تو اس کے لیے کوئی شرط نہیں (جیسے: عثمان)۔
  • جمع: اس کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ “منتہی الجموع” کے وزن پر ہو، یعنی الفِ جمع کے بعد دو حرف ہوں (جیسے: مساجد) یا تین حرف ہوں اور درمیان والا ساکن ہو (جیسے: مصابیح)۔
(3) “النوع الثانی الحروف المشبهة بالفعل” کی ترکیب کریں۔ جواب:
  • النوع: موصوف۔
  • الثانی: صفت۔ موصوف صفت مل کر مبتدا۔
  • الحروف: موصوف۔
  • المشبهة: صیغہ صفت (اسم فاعل)، اس میں “ہی” ضمیر فاعل۔
  • بالفعل: جار مجرور متعلق “المشبهة” کے۔
  • صیغہ صفت اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر صفت ہوئی۔ “الحروف” موصوف اپنی صفت سے مل کر خبر ہوئی۔ مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ ہوا۔
(4) “لکن وهى للاستدراك” استدراک کا معنی آسان الفاظ میں بیان کریں اور مثال دیں۔ جواب: 
استدراک کا معنی ہے “پہلے کلام سے پیدا ہونے والے وہم کو دور کرنا”۔ مثال: “ما جاءنی زیدٌ لکن عمراً حاضرٌ” (زید میرے پاس نہیں آیا لیکن عمر حاضر ہے)۔ یہاں “لکن” نے یہ وہم دور کیا کہ شاید عمر بھی نہیں آیا ہوگا۔
(5) “النوع السادس حروف تجزم الفعل المضارع” کی ترکیب کریں۔ 
جواب:
  • النوع: موصوف۔
  • السادس: صفت۔ موصوف صفت مل کر مبتدا۔
  • حروفٌ: موصوف۔
  • تجزم: فعل مضارع، اس میں “ہی” ضمیر فاعل۔
  • الفعل: موصوف۔ المضارع: صفت۔ موصوف صفت مل کر “تجزم” کا مفعول بہ۔
  • فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر “حروف” کی صفت۔ موصوف صفت مل کر خبر۔

حصہ دوم: شرح مائۃ عامل

سوال نمبر 4: کوئی سے پانچ اجزاء حل کریں۔
(1) وتتنوع السماعية منها على ثلاثة عشر نوعا کی ترکیب نحوی۔ 
ترکیب: (و) حرفِ استئناف (تتنوع) فعل مضارع (السماعیۃ) صفت اپنے موصوف محذوف (العوامل) سے مل کر فاعل (منہا) جار مجرور مل کر حال (علی) حرفِ جر (ثلاثۃ عشر) مرکبِ بنائی ہو کر مجرور (نوعاً) تمیز۔ جار مجرور متعلق فعل کے۔ فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ ہوا۔
(2) نحو أخذت من الدراهم أى بعض الدراهم کی ترکیب۔ 
ترکیب: (أخذتُ) فعل فاعل (من) حرفِ جر (الدراہم) مجرور۔ جار مجرور متعلق فعل کے۔ (أی) حرفِ تفسیر (بعضَ) مضاف (الدراہم) مضاف الیہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مفسَّر ہوا۔
(3) فاغسلوا وجوهكم وأيديكم إلى المرافق کی ترکیب۔ 
ترکیب: (ف) جزا (اغسلوا) فعلِ امر، “واؤ” ضمیر فاعل (وجوہ) مضاف (کم) ضمیر مضاف الیہ، مضاف مضاف الیہ مل کر معطوف علیہ۔ (و) حرفِ عطف (أیدی) مضاف (کم) مضاف الیہ، مضاف مضاف الیہ مل کر معطوف۔ معطوف علیہ و معطوف مل کر مفعول بہ۔ (الی المرافق) جار مجرور متعلق فعل کے۔

Guess Paper: تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان

الشہادۃ الثانویۃ العامۃ (میٹرک سال دوم)

2026 چوتھا پرچہ: عربی ادب و منطق


حصہ اول: عربی ادب
سوال نمبر 1: درج ذیل میں سے دو اجزاء کا سلیس اردو میں ترجمہ کریں۔
(الف) کان قد بایع رسول اللہ ﷺ عدد من رجال الأوس والخزرج… ترجمہ:
اوس اور خزرج کے بہت سے مردوں اور عورتوں نے بیعتِ عقبہ اولیٰ اور ثانیہ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کی بیعت کی تھی اور آپ ﷺ سے عہد کیا تھا کہ وہ آپ ﷺ کی حفاظت اور دفاع کریں گے۔ قریش کو جب اس کا علم ہوا تو وہ غصے میں آگئے اور انہوں نے آپ ﷺ کو شہید کرنے کی سازش تیار کی۔ پس اللہ نے آپ ﷺ کو بچا لیا اور آپ ﷺ نے اپنے مخلص ساتھی اور وفادار رفیق حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ یثرب (مدینہ) کی طرف ہجرت فرمائی۔
(ب) قد رأیت ھناک المسجد الملکی وضریح سیدنا (داتا)…
ترجمہ: میں نے وہاں شاہی مسجد، ہمارے سردار (داتا گنج بخش) کا مزار، انارکلی بازار، گورنر ہاؤس، صوبائی اسمبلی کا دفتر، واپڈا (واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی) کا دفتر، عجائب گھر اور چڑیا گھر دیکھا۔ میں نے وہاں چیتا، شتر مرغ اور گینڈا بھی دیکھا۔

حصہ دوم: منطق

سوال نمبر 4: (الف) کلی متواطی اور مشکک:
  • متواطی: وہ کلی جس کے افراد میں اس کے معنی کی شمولیت برابر ہو (جیسے ‘انسان’ کا مفہوم زید اور بکر میں برابر ہے)۔
  • مشکک: وہ کلی جس کے افراد میں معنی کی شمولیت برابر نہ ہو بلکہ کمی بیشی ہو (جیسے ‘سفیدی’ کاغذ میں زیادہ اور کپڑے میں کم ہو سکتی ہے
(ب) مرکب کی اقسام:
  1. مرکبِ تام:
  2. جس بات سے پورا فائدہ حاصل ہو (جیسے: زید کھڑا ہے)۔
  3. مرکبِ ناقص:
  4. جس سے پورا فائدہ حاصل نہ ہو (جیسے: نیک لڑکا)۔
سوال نمبر 5: (الف) تقدم کی اقسام اور تصور کا مقدم ہونا:
  • اقسام: تقدم بالطبع، تقدم بالزمان، تقدم بالرتبہ، تقدم بالشرف، تقدم بالذات۔
  • وجہ: تصور، تصدیق پر اس لیے مقدم ہے کیونکہ تصدیق میں نسبت کا حکم لگایا جاتا ہے، اور حکم لگانے کے لیے پہلے ان چیزوں (محکوم علیہ اور محکوم بہ) کا ذہن میں ہونا ضروری ہے۔
) کُل کی تعریف اور اقسام:
  • تعریف:
  • وہ مجموعہ جو اپنے اجزاء سے مل کر بنے۔
  • اقسام:
  • کلِ مجموعی اور کلِ افرادی۔

Guess Paper: تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان

الشہادۃ الثانویۃ العامۃ (میٹرک سال دوم) 

2026 چوتھا پرچہ: عربی ادب و منطق


حصہ اول: عربی ادب

سوال نمبر 1: درج ذیل میں سے دو اجزا کا سلیس اردو میں ترجمہ کریں۔
(الف) کان قد بایع رسول اللہ ﷺ عدد من رجال الأوس والخزرج…
ترجمہ: اوس اور خزرج کے بہت سے مردوں اور عورتوں نے بیعتِ عقبہ اولیٰ اور ثانیہ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کی بیعت کی تھی اور آپ ﷺ سے عہد کیا تھا کہ وہ آپ ﷺ کی حفاظت اور دفاع کریں گے۔ قریش کو جب اس کا علم ہوا تو وہ غصے میں آگئے اور انہوں نے آپ ﷺ کو شہید کرنے کی سازش تیار کی۔ پس اللہ نے آپ ﷺ کو بچا لیا اور آپ ﷺ نے اپنے مہربان ساتھی اور وفادار رفیق حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ یثرب (مدینہ) کی طرف ہجرت فرمائی۔
(ج) هل لکم حقول وزروع أیضا؟ نعم نملک أراضی زراعیة کثیرة الخیرات…
ترجمہ: کیا تمہارے پاس کھیت اور فصلیں بھی ہیں؟ جی ہاں، ہم بہت سی خیر و برکت والی زرعی زمینوں کے مالک ہیں جو گندم، چاول اور سبزیاں پیدا کرتی ہیں۔ میرے والد انجینئر ہیں جو کویت میں کام کرتے ہیں، اور میری والدہ اور چھوٹا بھائی ان کے ساتھ رہتے ہیں۔ میرا گھر نو کمروں پر مشتمل ہے اور ہر ایک کے ساتھ بیت الخلا (دوارۃ المیاہ) ہے۔
سوال نمبر 2: درج ذیل اجزا میں سے دو کا اردو میں ترجمہ کریں۔
(الف) وأحسن منك لم ترقط عينى … كأنك قد خلقت كما تشاء ترجمہ:
اور آپ (ﷺ) سے زیادہ حسین میری آنکھ نے کبھی نہیں دیکھا، اور آپ سے زیادہ خوبصورت کسی عورت نے جنا ہی نہیں۔ آپ ایسے پیدا کیے گئے جیسے ہر عیب سے پاک ہوں، گویا آپ ایسے ہی پیدا ہوئے جیسا آپ نے چاہا۔
(ب) يا من يرى ما في الضمير ويسمع … يا من يرجى للشدائد كلها
ترجمہ: اے وہ جو دلوں کے بھید دیکھتا اور سنتا ہے، تو ہی ہر اس چیز کے لیے تیار (مددگار) ہے جس کی توقع کی جاتی ہے۔ اے وہ جس سے تمام سختیوں میں امید رکھی جاتی ہے، اے وہ جس کی طرف فریاد اور پناہ لے جائی جاتی ہے۔

سوال نمبر 3: درج ذیل میں سے پانچ جملوں کی عربی بنائیں۔
(الف) اللہ کا شکر ادا کرو۔ عربی: اُشْكُرِ اللّٰهَ۔
(ب) بھلائی سب اللہ کے پاس ہے۔ عربی: اَلْخَيْرُ كُلُّهُ عِنْدَ اللّٰهِ۔
(ج) آپ ﷺ سب سے افضل ہیں۔ عربی: أَنْتَ أَفْضَلُ النَّاسِ۔
(د) لاہور میں تین یونیورسٹیاں ہیں۔ عربی: فِي لَاهُوْرَ ثَلَاثُ جَامِعَاتٍ۔
(ہ) قائد اعظم ایک مخلص قائد تھے۔ عربی: كَانَ الْقَائِدُ الْأَعْظَمُ قَائِدًا مُخْلِصًا۔
(ب) مرکب کی اقسام:
  1. مرکبِ تام:
  2. جس سے بات پوری سمجھ آ جائے (جیسے: زید کھڑا ہے)۔
  3. مرکبِ ناقص:
  4. جس سے بات پوری سمجھ نہ آئے (جیسے: نیک لڑکا)۔
سوال نمبر 4: (الف) تقدم کی اقسام اور تصور کا تصدیق پر مقدم ہونا:
  • اقسام:
  • تقدم بالطبع، تقدم بالزمان، تقدم بالرتبہ، تقدم بالشرف، تقدم بالذات۔
  • وجہ:
  • تصدیق میں نسبت کا حکم لگایا جاتا ہے، اور حکم لگانے کے لیے پہلے ان چیزوں کا ذہن میں ہونا ضروری ہے، اس لیے تصور تصدیق پر مقدم ہے۔
(ب) کُل کی تعریف اور اقسام:
  • تعریف:
  • وہ مجموعہ جو اپنے اجزاء سے مل کر بنے۔
  • اقسام:
  • کلِ مجموعی اور کلِ افرادی۔
سوال نمبر 5: (ب) دلالتِ لفظیہ وضعیہ کی اقسام مع تعریفات و امثلہ۔
اس کی تین اقسام ہیں:
  1. دلالتِ مطابقی: لفظ کا اپنے پورے معنی پر دلالت کرنا (جیسے ‘انسان’ کا ‘حیوانِ ناطق’ پر دلالت کرنا)۔
  2. دلالتِ تضمنی: لفظ کا اپنے معنی کے جز (حصے) پر دلالت کرنا (جیسے ‘انسان’ کا صرف ‘ناطق’ پر دلالت کرنا)۔
  3. دلالتِ التزامی: لفظ کا ایسے معنی پر دلالت کرنا جو حقیقت کا حصہ تو نہ ہو مگر اس کے لیے لازم ہو (جیسے ‘انسان’ کا ‘کاتب’ یا ‘علم قبول کرنے والا’ ہونے پر دلالت کرنا)۔

سوال نمبر 6: (ب) درج ذیل میں سے تین کی تعریفات و امثلہ۔
    1. تصدیق: نسبتِ خبریہ کے وقوع یا عدمِ وقوع کا اذعان (یقین) کر لینا۔ (مثال: زید کھڑا ہے)۔
    2. قضیہ: وہ قول جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکے۔ (مثال: پالا ٹھنڈا ہے)۔
    3. منقول: وہ لفظ جو ایک معنی سے دوسرے معنی کی طرف منتقل ہو گیا ہو اور پہلا معنی ترک کر دیا گیا ہو۔ (مثال: ‘صلاۃ’ جو دعا سے نماز کے معنی میں منتقل ہوا)۔ 

الشہادۃ الثانویۃ العامۃ (میٹرک سال دوم)

 پاکستان تنظیم المدارس اہلسنت

2026 پانچواں پرچہ: حساب (Math)


حل شدہ پرچہ

سوال نمبر 1: (الف) درج ذیل فی صد کو کسروں میں تبدیل کریں۔
  1. 75%: 
  2. 25%: 
  3. 48%: 
  4. : 
  5. : 
(ب) درج ذیل اعشاریہ کو فی صد میں تبدیل کریں۔
  1. 0.9: 
  2. 1.72: 
  3. 0.22: 
  4. 1.58: 
  5. 2.64: 

سوال نمبر 2: پرندوں کی نسبت معلوم کریں۔
کل پرندے = 12 | طوطے = 6 | چڑیاں = 2 کبوتروں کی تعداد = کل پرندے – (طوطے + چڑیاں) 
  1. کبوتروں اور چڑیوں میں نسبت: 
  2. کبوتروں اور کل پرندوں میں نسبت: 
سوال نمبر 3: زکوٰۃ معلوم کیجیے۔ 
کل مالیت = 3,000,000 روپے زکوٰۃ کی شرح = 2.5% (یا چالیسواں حصہ) زکوٰۃ =  روپے

سوال نمبر 4: وراثت (بیوہ کا حصہ)
کل ترکہ = 400,000 روپے چونکہ اولاد نہیں ہے، اس لیے بیوہ کا حصہ چوتھائی (1/4) ہوگا۔ بیوہ کا حصہ =  روپے

سوال نمبر 5: کرایہ معلوم کریں
(تناسبِ مرکب) سامان (کلو): 70  105 | فاصلہ (کلومیٹر): 150  300 | کرایہ (روپے): 5      روپے

سوال نمبر 5: شراکت داری (نفع کی تقسیم)
زید کا سرمایہ = 600 | عمر کا سرمایہ = 700 | کل نفع = 117 روپے مجموعہ نسبت = 
  • زید کا حصہ:  روپے
  • عمر کا حصہ:  روپے

سوال نمبر 6: واجب الزکوٰۃ معلوم کریں۔
بچت = 20,000 | زیور کی مالیت = 15,000 | کل مال = 35,000 روپے زکوٰۃ (2.5%):  روپے

سوال نمبر 7: تعلیمی کارکردگی کا موازنہ۔
  • انگلش: 
  • اردو: 
  • مطالعہ پاکستان:  جواب: مطالعہ پاکستان میں کارکردگی سب سے بہتر رہی۔

English Guess Paper – 2026 

Q.1: Translate any one of the following into Urdu.
When Hazrat Muhammad was thirty eight years of age,he spent most of his
time in solitude and meditation. In the cave of Hira, he used to retire with food and
water and spend days and weeks in remembrance of Allah Almighty
Answer (a): جب حضرت محمد ﷺ اڑتیس برس کے ہوئے تو وہ اپنا زیادہ تر وقت تنہائی اور مراقبے میں گزارتے تھے۔ غارِ حرا میں آپ ﷺ کھانا اور پانی لے کر گوشہ نشین ہو جاتے اور اللہ تعالیٰ کی یاد میں دن اور ہفتے گزارتے تھے۔
(b) On the night of the migration, a tribal chief of disbelievers, Abu Jehl,in a fit of fury
headed towards Hazrat Abu Bakr Siddique’s
door violently. Addressing Hazrat Asma
home. He began knocking at the
he demanded, “Where is your father?”
Answer (b): ہجرت کی رات، کفار کا ایک قبائلی سردار ابوجہل، غصے کی حالت میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف بڑھا، اس نے زور زور سے دروازہ کھٹکھٹانا شروع کر دیا۔ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مخاطب ہو کر اس نے مطالبہ کیا کہ “تمہارا باپ کہاں ہے؟”
(c) “Patriotism, therefore is not just a feeling, it is a live spirit that continuously inspire and guides a nation. In the words of S.W.Scott, a man devoid of patriotic spirit, is like the one who: Breathes there the man with soul so dead.”
جواب (ترجمہ): چنانچہ، حب الوطنی محض ایک احساس نہیں ہے، بلکہ یہ ایک زندہ جذبہ ہے جو مسلسل ایک قوم کو تحریک دیتا اور اس کی رہنمائی کرتا ہے۔ سر والٹر سکاٹ (S.W.Scott) کے الفاظ میں، وہ شخص جو حب الوطنی کے جذبے سے محروم ہے، بالکل اس شخص کی طرح ہے جس کی روح اس قدر مردہ ہو چکی ہو کہ (وہ زندہ تو نظر آتا ہے مگر حقیقت میں مردہ ہے)۔

 

Q.3: Write meanings and use them in sentences.
  1. Mad with anger (غصے میں پاگل ہونا):
  2. Abu Jehl was mad with anger when he found out about the migration.
  3. Reveal the secret (راز فاش کرنا):
  4. Hazrat Asma (رضی اللہ عنہا) did not reveal the secret of the journey to Abu Jehl.
  5. Gave away (بانٹ دینا/تقسیم کرنا):
  6. Hazrat Ayesha (رضی اللہ عنہا) gave away all the money to the poor and needy.
Q.5: Write an application to the principal of jamia for leave due to fever.
To,
The Principal,
Jamia [Name of Jamia],
[City Name].
Subject: Application for Sick Leave
Respected Sir, With due respect, it is stated that I am suffering from high fever since last evening. Due to this, I am unable to attend the Jamia today. Kindly grant me leave for one day, i.e., [Date]. I shall be very grateful to you for this favor.
Yours obediently,
[Your Name],
Class: Aama Sal-e-Dom.

 



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *