جواب: ترجمہ: اور جس دن ظالم (یعنی مشرک عقبہ بن ابی معیط، جس نے کلمہ پڑھ لیا تھا پھر ابی بن خلف کو راضی کرنے کے لیے پھر گیا تھا) اپنے ہاتھوں کو کاٹے گا (قیامت کے دن ندامت اور حسرت کی وجہ سے)، وہ کہے گا: ہائے کاش (لفظ ‘یا’ تنبیہ کے لیے ہے) میں نے رسولِ خدا محمد ﷺ کے ساتھ راستہ اختیار کیا ہوتا (یعنی ہدایت کا راستہ)۔ ہائے میری بربادی (اس میں الف، یائے اضافت کا عوض ہے، یعنی میری ہلاکت)، کاش میں نے فلاں (یعنی ابی بن خلف) کو اپنا دوست نہ بنایا ہوتا۔
سوال نمبر 1: (ب) عباراتِ مفسر کی تشریح کریں اور بتائیں کہ قیامت کے دن کس کی دوستی کام آئے گی؟
جواب: مفسر کے مطابق یہ آیات عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں نازل ہوئیں جس نے اپنے بدبخت دوست ابی بن خلف کے کہنے پر اسلام سے دوری اختیار کی۔ قیامت کے دن انسان بدکار دوستوں پر حسرت کرے گا۔
قیامت کے دن صرف ان لوگوں کی دوستی کام آئے گی جو تقویٰ اور اللہ کی رضا کی بنیاد پر ہو گی، جیسا کہ قرآن میں ہے کہ “اس دن گہرے دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے سوائے پرہیزگاروں کے”۔
سوال نمبر 1: (ج) جلالین کے مصنفین کے نام تحریر کریں۔
جواب: امام جلال الدین محلی (رحمہ اللہ) امام جلال الدین سیوطی (رحمہ اللہ)
سوال نمبر 2: عبارت (ولقد اتینا داؤد و سلیمن ابنه…) کا ترجمہ اور اغراضِ مفسر کی وضاحت کریں۔
ترجمہ: اور بے شک ہم نے داؤد اور ان کے بیٹے سلیمان (علیہما السلام) کو علم عطا کیا (لوگوں کے درمیان فیصلے کرنے کا، پرندوں کی بولی کا اور اس کے علاوہ) اور ان دونوں نے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں نبوت، اور جنات، انسانوں اور شیاطین کی تسخیر کے ذریعے اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت عطا کی۔ اور سلیمان، داؤد کے (علم اور نبوت کے) وارث ہوئے۔ اغراضِ مفسر: مفسر نے “علماً” کی تشریح کر کے بتایا کہ اس سے مراد صرف عام علم نہیں بلکہ قضا اور پرندوں کی بولی کا علم ہے۔ “فضلنا” کی وضاحت کر کے بتایا کہ یہ فضیلت نبوت اور مخلوقات کی غلامی کی صورت میں تھی۔ “ورث” سے مراد مالی وراثت نہیں بلکہ نبوت اور علم کی وراثت مراد لی تاکہ انبیاء کی شان واضح ہو۔
سوال نمبر 3: (الف) کلامِ باری و کلامِ مفسر کا ترجمہ کریں، نیز مذکورہ عبارت کی توضیح کریں۔
جواب: ترجمہ: اور سلیمان (علیہ السلام) داؤد (علیہ السلام) کے وارث ہوئے (یعنی نبوت اور علم میں) اور انہوں نے کہا: اے لوگو! ہمیں پرندوں کی بولیاں سکھائی گئی ہیں (یعنی ان کی آوازوں کا سمجھنا) اور ہمیں ہر وہ چیز عطا کی گئی ہے جو انبیاء اور بادشاہوں کو دی جاتی ہے، بے شک یہ تو (اللہ کا) کھلا ہوا فضل ہے۔
سوال نمبر 3: (ب) کلامِ باری و کلامِ مفسر کا ترجمہ کریں، نیز مذکورہ عبارت کی توضیح کریں۔
جواب: ترجمہ: اور سلیمان (علیہ السلام) داؤد (علیہ السلام) کے وارث ہوئے (یعنی نبوت اور علم میں) اور انہوں نے کہا: اے لوگو! ہمیں پرندوں کی بولیاں سکھائی گئی ہیں (یعنی ان کی آوازوں کا سمجھنا) اور ہمیں ہر وہ چیز عطا کی گئی ہے جو انبیاء اور بادشاہوں کو دی جاتی ہے، بے شک یہ تو (اللہ کا) کھلا ہوا فضل ہے۔
مختصر سوالات
س 1: سماعِ موتی کا صحیح مفہوم کیا ہے؟
ج: اس آیت میں مردوں اور بہروں سے مراد وہ کفار ہیں جن کے دل مر چکے ہیں اور وہ ہدایت کی بات نہیں سنتے۔ جہاں تک جسمانی طور پر مرنے والوں کا تعلق ہے، تو اہل سنت کے نزدیک مردے زندوں کی پکار اللہ کے اذن سے سنتے ہیں، جیسے شہداء اور اہل قبور۔
س 2: مفسر کی بیان کردہ قراءتوں کی توضیح کریں؟
ج: مفسر نے “الدعاء إذا” میں دو قراءتیں بیان کی ہیں۔ ایک ‘تحقیق’ (دونوں ہمزوں کو واضح پڑھنا) اور دوسری ‘تسہیل’ (دوسرے ہمزے کو نرمی سے الف اور یا کے درمیان پڑھنا)۔
س 3: قربانی کرنا واجب ہے یا سنت؟ احناف کا موقف دلیل سے لکھیں۔
ج: احناف کے نزدیک صاحبِ نصاب پر قربانی کرنا واجب ہے۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: “فصل لربک وانحر” (اپنے رب کے لیے نماز پڑھیں اور قربانی کریں)، یہاں امر کا صیغہ وجوب پر دلالت کرتا ہے۔ نیز حدیث میں ہے: “جس نے استطاعت کے باوجود قربانی نہ کی وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے۔”
س 4: حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں کتنا عرصہ رہے؟
ج: حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں رہنے کی مدت کے بارے میں مختلف اقوال ہیں، مشہور قول یہ ہے کہ آپ چالیس (40) دن تک مچھلی کے پیٹ میں رہے۔ کچھ اقوال کے مطابق یہ مدت تین دن یا سات دن بھی تھی۔
س 5: “لا تبدیل لخلق اللہ” کا کیا مطلب ہے؟
ج: اس کا مطلب ہے کہ اللہ کے دین کو مت بدلو، یعنی شرک کر کے اس فطری توحید کو تبدیل نہ کرو جو اللہ نے تمہارے اندر رکھی ہے۔
خاصہ سال دوم – (دوسرا پرچہ: حدیث و عربی ادب)
قسم اول: حدیثِ مبارکہ
سوال نمبر 1: (الف) حدیثِ شریف پر اعراب لگا کر ترجمہ کریں۔
جواب: ترجمہ: (حضرت جبریل علیہ السلام نے) عرض کیا: پس مجھے قیامت کے بارے میں بتائیے کہ وہ کب ہوگی؟ (نبی کریم ﷺ نے) فرمایا: اس کے بارے میں جس سے پوچھا جا رہا ہے وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا، لیکن اس کی کچھ نشانیاں (شرائط) ہیں۔
سوال نمبر 1: (ب) کیا نبی کریم ﷺ کو قیامت کا علم تھا؟ اہل سنت کا موقف لکھیں۔
جواب: اہل سنت و جماعت کا موقف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کو قیامت کے وقتِ دقیق سمیت تمام غیبی امور کا علم عطا فرما دیا تھا۔ اس حدیث میں “ما المسؤول عنھا” فرمانے کی حکمت یہ تھی کہ اس وقت کے تقاضے کے مطابق سائل کو یہ بتانا مقصود تھا کہ اس کا وقت بتانا مصلحتِ الہیہ کے خلاف ہے، یا یہ کہ مخلوق میں سے کوئی بھی اللہ کی عطا کے بغیر اسے نہیں جان سکتا۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ وصالِ ظاہری سے پہلے اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو قیامت کے وقت کا علم بھی عطا کر دیا تھا۔
سوال نمبر 2: (الف) حدیث شریف کا ترجمہ کریں نیز “شیعۃ الدجال” کی توضیح کریں۔
جواب: ترجمہ: حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قدریہ (تقدیر کا انکار کرنے والے) اس امت کے مجوسی ہیں اور وہ دجال کے ساتھی ہیں۔ توضیح: “شِیْعَۃُ الدَّجَّالِ” سے مراد وہ لوگ ہیں جو دجال کے فتنے کے وقت اس کے پیروکار ہوں گے یا اس کے باطل نظریات کی حمایت کریں گے، کیونکہ تقدیر کا انکار انسان کو عقلی طور پر دجال کے فتنے میں مبتلا کرنے کا سبب بنتا ہے۔
سوال نمبر 2: (ب) تقدیر کے منکر کون ہیں نیز یہ بتائیں کہ انہیں “مجوس هذه الامة” کیوں کہا گیا ہے؟
جواب: تقدیر کے منکر وہ لوگ ہیں جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ انسان اپنے افعال کا خود خالق ہے اور اللہ تعالیٰ کو ان کا پہلے سے علم نہیں ہوتا۔ ان کو مجوسیوں سے اس لیے تشبیہ دی گئی کیونکہ مجوسی کائنات میں دو خالق (یزداں اور اہرمن یعنی نور و ظلمت) مانتے تھے، اسی طرح قدریہ نے بھی انسان کو اپنے فعل کا الگ خالق مان کر اللہ کی واحدانیت میں مشابہت پیدا کی، اس لیے وہ اس امت کے مجوسی کہلائے
حصہ دوم: الأدب العربى
سوال نمبر 4: درج ذیل میں سے صرف پانچ کا ترجمہ کریں۔
جواب: میرے ساتھی وہاں اپنی سواریوں پر کھڑے ہو کر مجھ سے کہنے لگے:
غم سے ہلاک نہ ہو اور صبر سے کام لو۔ میرا علاج تو بہنے والے آنسو ہیں، کیا مٹتے ہوئے گھر کے نشان پر رونے کا کوئی فائدہ ہے؟
جب وہ دونوں اٹھتی ہیں تو ان سے مشک کی خوشبو ایسے پھیلتی ہے جیسے صبا کی ہوا لونگ کی خوشبو لائی ہو۔
بادل نے مقامِ غبیط کی ریت پر اپنا بوجھ (پانی) اس طرح ڈال دیا جیسے کوئی یمنی تاجر اپنے سجے ہوئے تھیلے کھول دے۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وادیِ جواء کے پرندے صبح کے وقت تیکھی شراب پی کر مست ہو گئے ہوں۔
مختصر سوالات
س 1: “تَضَوَّعَ” کی صرفی تحقیق کیا ہے؟
ج: یہ فعل ماضی، واحد مذکر غائب، باب تفعل سے ہے، اس کا معنی ‘خوشبو پھیلنا’ ہے۔
س 2: “فَاضَتْ” کی صرفی تحقیق کیا ہے؟
ج: یہ فعل ماضی، واحد مؤنث غائب، باب ضرب (فیض) سے ہے، اس کا معنی ‘بہہ پڑنا’ ہے۔
س 3: “عَقَرْتَ” کی صرفی تحقیق کیا ہے؟
ج: یہ فعل ماضی، واحد مذکر حاضر، باب ضرب سے ہے، اس کا معنی ‘تو نے زخمی کیا یا کاٹ ڈالا’ ہے۔
س 4: سبع معلقات کی وجہ تسمیہ کیا ہے؟
ج: ‘معلقہ’ لٹکائی ہوئی چیز کو کہتے ہیں۔ زمانہ جاہلیت کے سات بہترین قصیدوں کو سونے کے پانی سے لکھ کر کعبہ کی دیواروں پر لٹکایا گیا تھا، اس لیے انہیں سبع معلقات کہا جاتا ہے۔
س 5: دو معلقات کے شعراء کے نام لکھیں؟
ج: (1) امرؤ القیس (2) زہیر بن ابی سلمیٰ۔
خاصہ سال دوم – (تیسرا پرچہ: فقہ)
سوال نمبر 1: (ب) نمازِ ظہر کے وقت میں امام اعظم اور صاحبین کا اختلاف مع دلائل ذکر کریں۔
جواب: ظہر کا وقت ختم ہونے کے متعلق فقہاء کا اختلاف یہ ہے:
صاحبین (امام ابو یوسف اور امام محمد) کے نزدیک ظہر کا وقت تب ختم ہوتا ہے جب ہر چیز کا سایہ اس کے اصلی سائے کے علاوہ ایک مثل (ایک گنا) ہو جائے۔ ان کی دلیل جبرائیل علیہ السلام کی امامت والی حدیث ہے جہاں انہوں نے دوسرے دن ایک مثل پر ظہر پڑھائی۔
امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک ظہر کا وقت تب ختم ہوتا ہے جب سایہ اصلی کے علاوہ دو مثل (دو گنا) ہو جائے۔ ان کی دلیل نبی ﷺ کا فرمان ہے کہ ظہر کو ٹھنڈا کر کے پڑھو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کے سانس سے ہے، اور ایک مثل پر تو گرمی کی شدت باقی رہتی ہے۔
سوال نمبر 2: (الف) مذکورہ بالا عبارت کے تحت ہدایہ میں بیان کیا گیا اختلافِ ائمہ مع دلائل تحریر کریں۔
جواب: ماءِ مستعمل (استعمال شدہ پانی) کے بارے میں ائمہ کا اختلاف درج ذیل ہے:
امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک ماءِ مستعمل پاک تو ہے مگر یہ نجاستِ حکمیہ (وضو اور غسل کی ضرورت) کو دور نہیں کر سکتا۔
امام شافعی اور امام مالک کے نزدیک ماءِ مستعمل پاک ہے مگر پاک کرنے والا نہیں۔ (ان کا ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ پاک کرنے والا بھی ہے)۔ احناف کی دلیل یہ ہے کہ پانی کا استعمال اسے اس کے اصلی وصف (پاک کرنے کی صفت) سے نکال دیتا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ نے پانی کو پاک کرنے والا بنایا ہے مگر جب وہ ایک بار استعمال ہو جائے تو اس کی وہ قوت ختم ہو جاتی ہے۔
فاتحہ خلف الامام کے مسئلہ پر ائمہ اربعہ کے مذاہب بیان کریں۔
امام ابوحنیفہ کے نزدیک مقتدی پر قرأت بالکل نہیں، امام شافعی کے نزدیک ہر حال میں ضروری ہے، امام مالک اور احمد کے نزدیک جہری نماز میں خاموش رہے اور سری میں پڑھے۔
وتر کا مستحب وقت کون سا ہے؟
وتر کا مستحب وقت رات کا آخری حصہ ہے، بشرطیکہ بیدار ہونے پر بھروسہ ہو، ورنہ سونے سے پہلے پڑھ لے۔
حائضہ سے کون کونسی چیزیں ساقط اور کون سی ممنوع ہیں؟
حائضہ سے نماز ساقط ہے (قضا نہیں) اور روزہ ممنوع ہے (قضا واجب ہے)، نیز تلاوتِ قرآن اور مسجد میں داخلہ ممنوع ہے۔
وہ اوقات جن میں نفل نماز ممنوع ہے کوئی سے پانچ اوقات لکھیں۔
طلوعِ آفتاب کا وقت، غروبِ آفتاب کا وقت، استوائے شمس (زوال)، فجر کی نماز کے بعد سے طلوع تک، اور عصر کی نماز کے بعد سے غروب تک۔
ماسقی بغرب او دالیہ او سانیہ ففیہ نصف العشر عبارت کی وضاحت کریں۔
وہ زمین جو کنوئیں، ڈول یا مصنوعی ذرائع سے سیراب کی جائے اس کی پیداوار میں نصف عشر یعنی بیسواں حصہ (5%) زکوٰۃ واجب ہے۔
تیمم کی شرائط سپر و قلم کریں۔
نیت کرنا، عذر (پانی نہ ہونا یا بیماری) کا ہونا، پاک مٹی یا ہم جنسِ زمین ہونا، اور چہرے و ہاتھوں کا استیعاب کے ساتھ مسح کرنا۔
خاصہ سال دوم – (چوتھا پرچہ: اصولِ فقہ)
سوال نمبر 1: (الف) اصولِ شرع کتنے ہیں تعداد بتائیں اور وجہ حصر بیان کریں۔
جواب: اصولِ شرع چار ہیں:
کتاب اللہ، سنتِ رسول، اجماعِ امت اور قیاس۔
وجہ حصر یہ ہے کہ حکمِ شرعی یا تو وحی الٰہی ہوگا یا نہیں۔ اگر وحی ہے تو وہ کلامِ منظوم ہو تو “کتاب اللہ” ہے اور اگر کلامِ منظوم نہ ہو بلکہ قول یا فعلِ رسول ہو تو وہ “سنت” ہے۔
اگر وحی نہیں ہے تو یا تو اس پر پوری امت کا اتفاق ہوگا جو “اجماع” کہلاتا ہے یا پھر اس حکم کو کسی علت کی بنیاد پر سابقہ حکم سے نکالا گیا ہوگا جو “قیاس” کہلاتا ہے۔
سوال نمبر 1: (ب) علم اصولِ فقہ کی تعریف، موضوع اور غرض و غایت تحریر کریں۔
جواب: تعریف: وہ علم جس میں ان قواعد سے بحث کی جائے جن کے ذریعے دلائلِ تفصیلیہ سے احکامِ شرعیہ حاصل کیے جائیں۔
موضوع: ادلہ اربعہ (کتاب اللہ، سنت، اجماع اور قیاس) اس علم کا موضوع ہیں کیونکہ ان کے ذریعے احکام ثابت ہوتے ہیں۔
غرض و غایت: اس علم کا مقصد یہ ہے کہ انسان احکامِ شرعیہ کو ان کے اصل مآخذ سے نکالنے کی صلاحیت پیدا کرے تاکہ دارین کی سعادت حاصل کر سکے۔
سوال نمبر 1: (ج) کتاب اللہ کی تعریف اور اس تعریف میں مذکور قیودات کے فوائد لازمی تحریر کریں۔
جواب: کتاب اللہ وہ کلام ہے جو رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوا، مصاحف میں لکھا ہوا ہے اور ہم تک تواتر کے ساتھ پہنچا ہے۔
قیودات کے فوائد: “نازل شدہ علی الرسول” کی قید سے سابقہ کتب (تورات، انجیل وغیرہ) نکل گئیں کیونکہ وہ اب منسوخ ہیں۔
“مکتوب فی المصاحف” کی قید سے وہ احادیثِ قدسیہ نکل گئیں جو قرآن کا حصہ نہیں ہیں۔
“منقول عن النبی تواتراً” کی قید سے اخبارِ احاد اور شاذ قرأتیں نکل گئیں، جیسے ابنِ مسعود کی روزوں کے بارے میں قراءت۔
سوال نمبر 2: (الف) فارسی میں تلاوت جائز ہے یا نہیں؟ امام اعظم کی طرف منسوب وہم کا ازالہ کریں۔
جواب: امام اعظم رحمہ اللہ کا ابتدائی قول یہ تھا کہ فارسی میں تلاوت جائز ہے، لیکن بعد میں آپ نے اس سے رجوع فرما لیا تھا۔
اب صحیح اور مفتیٰ بہ قول یہ ہے کہ قدرت کے باوجود فارسی میں تلاوت کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ نظم (عربی الفاظ) بھی قرآن کا لازمی حصہ ہے۔
وہم کا ازالہ یہ ہے کہ امام صاحب نے یہ جوار صرف اس شخص کے لیے دیا تھا جو عربی پر قادر نہ ہو، لیکن بعد میں احتیاطاً اس سے بھی رجوع کر لیا تاکہ قرآن کی معجزانہ نظم برقرار رہے۔
سوال نمبر 2: (ب) ماتن علیہ الرحمہ لفظ کی جگہ نظم کا صیغہ کیوں لائے؟ وضاحت کریں۔
جواب: ماتن نے لفظ کی جگہ “نظم” کا لفظ اس لیے استعمال کیا کیونکہ لفظ تو ایک مفرد آواز کو بھی کہہ سکتے ہیں، جبکہ قرآن ایک خاص ترتیب اور تالیف کا نام ہے جسے ‘نظم’ (موتیوں کو پرونے کی طرح ترتیب دینا) سے بہتر واضح کیا جا سکتا ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ قرآن کی ترتیب بھی منجانب اللہ ہے۔
س: “خارج من غیر السبیلین” میں احناف و شوافع کا اختلاف مع دلیل کیا ہے؟
ج: احناف کے نزدیک بدن کے کسی حصے سے نجاست (خون، پیپ) نکل کر بہہ جائے تو وضو ٹوٹ جاتا ہے، دلیل حدیث ہے: “الوضوء من کل دم سائل”۔ امام شافعی کے نزدیک وضو صرف سبیلین سے نکلنے والی چیزوں سے ٹوٹتا ہے۔
س: افتتاحِ صلوٰۃ بالفارسی (فارسی میں نماز شروع کرنا) میں ائمہ کا کیا اختلاف ہے؟
ج: امام اعظم کے نزدیک فارسی میں نماز شروع کرنا جائز ہے (اگرچہ خلافِ سنت ہے)، جبکہ صاحبین کے نزدیک اگر عربی پر قدرت ہو تو فارسی میں شروع کرنا جائز نہیں ہے۔
س: غسل واجب کرنے والے چار اسباب مع دلیل تحریر کریں۔
ج: جماع (خواہ انزال نہ ہو) خروجِ منی شہوت کے ساتھ حیض کا ختم ہونا نفاس کا ختم ہونا (دلیل قرآن: “وَإِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوا”)
س: اگر امام قرأت سے عاجز ہو جائے (ان حصر الامام) تو کیا حکم ہے؟
ج: اگر امام قرأت نہ کر سکے اور کسی دوسرے کو اپنی جگہ امام بنا کر آگے کر دے تو سب کی نماز جائز ہو جائے گی۔
س: سجدہ اگر عمامے کے پیچ (کورِ عمامہ) پر کیا جائے تو کیا جائز ہے؟
ج: جی ہاں، اگر عمامہ پیشانی پر ہو اور اس پر سجدہ کیا جائے تو جائز ہے، بشرطیکہ پیشانی کی سختی زمین پر محسوس ہو۔
س: نجاست اگر مخرج سے ایک درہم سے زیادہ تجاوز کر جائے تو کیا حکم ہے؟
ج: ایسی صورت میں صرف پتھر یا ڈھیلے سے پاکی حاصل نہیں ہوگی بلکہ پانی سے دھونا واجب ہے۔
خاصہ سال دوم – 2022 (پانچواں پرچہ: نحو – شرح جامی)
سوال نمبر 1: (الف) عبارت “التقدير أى تقدير الإعراب…” کی تشکیل اور ترجمہ کریں۔
جواب: ترجمہ: تقدیر (یعنی اعراب کی پوشیدگی) اس اسمِ معرب میں ہوتی ہے جس میں اعراب کا (ظہور) متعذر ہو جائے یعنی اس کے لفظ میں اعراب کا ظاہر ہونا ناممکن ہو، اور یہ تب ہوتا ہے جب وہ حرف جو اعراب کی جگہ ہے (یعنی حرفِ آخر) حرکاتِ اعرابیہ کو قبول کرنے کے قابل نہ رہے۔
سوال نمبر 1: (ب) شرح جامی، شرح مزجی ہے یا غیر مزجی؟ ماتن و شارح کے حالات لکھیں۔
جواب: شرح جامی ایک شرحِ مزجی ہے (جس میں متن اور شرح اس طرح ملے ہوتے ہیں کہ ایک ہی عبارت معلوم ہوتی ہے)۔
ماتن: علامہ ابن الحاجب رحمہ اللہ (صاحبِ کافیہ)۔ آپ کا نام عثمان بن عمر ہے، آپ نحو اور فقہ کے بہت بڑے امام تھے۔
شارح: مولانا نور الدین عبد الرحمن جامی رحمہ اللہ۔ آپ نویں صدی ہجری کے عظیم عالم، صوفی اور شاعر تھے۔ آپ نے یہ شرح اپنے صاحبزادے ضیاء الدین یوسف کے لیے لکھی تھی۔
وَهُوَ أَيِ الِاسْمُ قِسْمَانِ مُعْرَبٌ وَمَبْنِيٌ لِأَنَّهُ لَا يَخْلُو إِمَّا أَنْ يَكُونَ مُرَكَّبًا مَعَ غَيْرِهِ أَوْ لَا اور وہ یعنی اسم دو قسم پر ہے: معرب اور مبنی، اس لیے کہ اسم اس سے خالی نہیں کہ وہ دوسرے کے ساتھ مرکب ہوگا یا نہیں ہوگا۔
اعراب کی تعریف کریں اور واضح کریں کہ معانیِ معتورہ سے کیا مراد ہے؟
اعراب وہ اثر ہے جو عامل کی وجہ سے اسم کے آخر میں آتا ہے؛ اور معانیِ معتورہ سے مراد بدلنے والے معانی ہیں جیسے فاعلیت، مفعولیت اور اضافت۔
رفع کو فاعلیت اور نصب کو مفعولیت کی علامت کیوں قرار دیا گیا؟
چونکہ فاعل اصل ہے اور رفع بھی قوی ہے، اس لیے اصل کے لیے قوی حرکت (ضمہ) چنی گئی، جبکہ مفعول فضلہ ہے اس لیے اسے ہلکی حرکت (فتحہ) دی گئی۔
منادیٰ کی تعریف لکھیں۔
منادیٰ وہ اسم ہے جسے حروفِ ندا کے ذریعے اپنی طرف متوجہ کیا جائے، دراصل یہ فعل کا مفعول بہ ہوتا ہے۔
منادیٰ کے اعراب کی کتنی قسمیں ہیں؟
منادیٰ یا تو مبنی بر علامتِ رفع ہوتا ہے (مفرد معرفہ ہو) یا پھر منصوب ہوتا ہے (اگر مضاف یا نکرہ غیر معینہ ہو)۔
فاعل کی تعریف لکھیں نیز بتائیں فاعل اصل ہے یا مبتداء؟
فاعل وہ اسم ہے جس سے پہلے ایسا فعل ہو جو اس کی طرف منسوب ہو؛ نحویوں کے نزدیک مرفوعات میں فاعل اصل ہے۔
فاعل کو مفعول پر مقدم کرنے کی وجوبی صورتیں لکھیں۔
جب فاعل اور مفعول دونوں کا اعراب پوشیدہ ہو اور التباس کا خوف ہو، یا جب فاعل ضمیر متصل ہو اور مفعول اسمِ ظاہر ہو۔
خاصہ سال دوم – (چھٹا پرچہ: بلاغت و منطق)
قسم اول: بلاغت (تلخیص المفتاح)
سوال نمبر 1: (الف) عبارت پر اعراب لگا کر ترجمہ تحریر کریں۔
جواب: ترجمہ: میں نے ایک ایسی مختصر کتاب تالیف کی جو (مفتاح العلوم کے) قواعد کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے اور ان مثالوں اور شواہد پر مشتمل ہے جن کی ضرورت پڑتی ہے، اور میں نے اس کی تحقیق اور تہذیب میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، اور میں نے اسے ایسی ترتیب پر مرتب کیا جو اس (اصل کتاب) کی ترتیب سے زیادہ آسان ہے، اور میں نے اس کے الفاظ کو مختصر کرنے میں غلو سے کام نہیں لیا تاکہ اس کا حاصل کرنا آسان ہو اور طلبہ کے لیے اس کا سمجھنا سہل ہو جائے۔
سوال نمبر 1: (ب) تلخیص المفتاح کس کتاب کی تلخیص ہے؟ نیز دونوں کے مصنفین کے نام لکھیں۔
جواب: تلخیص المفتاح علامہ سکاکی کی کتاب “مفتاح العلوم” (کے تیسرے حصے) کی تلخیص ہے۔
تلخیص المفتاح کے مصنف کا نام علامہ جلال الدین قزوینی (خطیب دمشق) ہے۔
مفتاح العلوم کے مصنف کا نام امام ابویعقوب یوسف بن ابی بکر بن محمد السکاکی ہے۔
سَوَاءَ الطَّرِيقِ أَيْ وَسَطَهُ الَّذِي يُفْضِي سَالِکُهُ إِلَى الْمَطْلُوبِ الْبَتَّةَ وَهَذَا كِنَايَةٌ عَنِ الطَّرِيقِ الْمُسْتَوِي راستے کا درمیان، یعنی اس کا وسط جو چلنے والے کو یقیناً مطلوب تک پہنچا دے، اور یہ سیدھے راستے سے کنایہ ہے۔
ماتن نے علم کی تعریف کیوں نہیں کی؟
کیونکہ علم ایک بدیہی چیز ہے جس کی تعریف کی ضرورت نہیں، یا اس کی جامع و مانع تعریف نہایت دشوار ہے۔
هُوَ مُلَاحَظَةُ الْمَعْقُولِ لِتَحْصِيلِ الْمَجْهُولِ یہ (فکر) معلوم چیزوں کو ترتیب دینا ہے تاکہ نامعلوم (مجہول) چیز حاصل ہو جائے۔
منطق کی تعریف اور اس کی ضرورت لکھیں۔
منطق وہ آلہ ہے جو ذہن کو غلطی سے بچائے؛ اس کی ضرورت فکری خطاؤں سے بچنے کے لیے ہے۔
قانون کی تعریف مع مثال سپرد قلم کریں۔
قانون وہ کلی قاعدہ ہے جو تمام جزئیات پر صادق آئے، جیسے: “ہر وہ حجت جو درست شکل میں ہو، نتیجہ بھی درست دے گی”۔
درج ذیل میں سے پانچ اصطلاحات کی تعریفات و امثلہ لکھیں۔
جنس: وہ کلی جو مختلف حقیقتوں پر بولی جائے (حیوان)؛
دلالتِ مطابقی: لفظ کا اپنے پورے معنی پر دلالت کرنا؛