ترجمہ: تم فرماؤ اے کتابیو! اللہ کی راہ سے اسے کیوں روکتے ہو جو ایمان لایا، اس میں کجی (ٹیڑھ) چاہتے ہوئے حالانکہ تم خود گواہ ہو، اور اللہ تمہارے کوتکوں (اعمال) سے بے خبر نہیں۔ اے ایمان والو! اگر تم کتابیوں کے کسی گروہ کے کہے پر چلے تو وہ تمہارے ایمان کے بعد تمہیں کافر کر دیں گے۔
ترجمہ: یہ اللہ کی حدیں ہیں، اور جو اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانے گا اللہ اسے باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں رواں، ہمیشہ ان میں رہیں گے، اور یہی بڑی کامیابی ہے۔
ترجمہ: اور یاد کرو اللہ کا احسان اپنے اوپر اور وہ عہد جو اس نے تم سے لیا جبکہ تم نے کہا کہ ہم نے سنا اور مانا، اور اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ دلوں کی بات جانتا ہے۔
ترجمہ:جب حواریوں نے کہا اے عیسیٰ بن مریم! کیا آپ کا رب ایسا کر سکتا ہے کہ ہم پر آسمان سے ایک خوان (کھانے کا دسترخوان) اتارے؟ فرمایا اللہ سے ڈرو اگر تم ایمان رکھتے ہو۔
ترجمہ: اور اگر تم ایک بی بی کے بدلے دوسری بدلنا چاہو اور اسے ڈھیروں مال دے چکے ہو تو اس میں سے کچھ واپس نہ لو، کیا اسے بہتان اور کھلے گناہ کے ذریعے واپس لو گے؟
ترجمہ: اے ایمان والو! اپنی ہوشیاری سنبھالو (ہتھیار لے لو) پھر الگ الگ دستے ہو کر نکلو یا سب اکٹھے کوچ کرو۔
سوال نمبر 2: درج ذیل میں سے صرف پانچ الفاظ کے معانی لکھیں۔
قَرْح:زخم / چوٹ
سُنَن: طریقے / دستور (سنت کی جمع)
السُّدُس: چھٹا حصہ (1/6)
قِسِّيسِيْن:عیسائی درویش / علماء
بَحِيرَة:وہ اونٹنی جس کا کان چیر کر بتوں کے نام پر چھوڑ دیا جاتا تھا
سَائِبَة:وہ جانور جسے بتوں کی نذر کر کے آزاد چھوڑ دیا جاتا تھا
مَعْز: بکری
حصہ دوم: فقہ
سوال نمبر 3:(الف) نماز کے صحیح ہونے کی کوئی سی آٹھ شرطیں لکھیں
۔جواب: نماز کی شرائط درج ذیل ہیں:
بدن کا پاک ہونا۔ 2. کپڑوں کا پاک ہونا۔ 3. جگہ کا پاک ہونا۔ 4. سترِ عورت (بدن چھپانا)۔ 5. وقت کا ہونا۔ 6. قبلہ کی طرف رخ کرنا۔ 7. نیت کرنا۔ 8. تکبیرِ تحریمہ کہنا۔
(ب) نماز کے نو مفسدات (نماز توڑنے والی چیزیں) لکھیں۔
جواب: 1. نماز میں کلام کرنا۔ 2. کسی کو سلام کرنا۔ 3. سلام کا جواب دینا۔ 4. چھینک آنے پر “الحمدللہ” کہنا۔ 5. درد یا تکلیف کی وجہ سے “آہ” یا “اف” کرنا۔ 6. بلا ضرورت کھنکھارنا۔ 7. عملِ کثیر (ایسا کام کرنا جس سے دیکھنے والا سمجھے کہ یہ نماز میں نہیں ہے)۔ 8. قرآن مجید دیکھ کر پڑھنا۔ 9. نماز میں کھانا یا پینا۔
Guess Paper: تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان
الشہادۃ الثانویۃ العامۃ (میٹرک سال دوم)
2025دوسرا پرچہ: صرف (علم الصرف)
سوال نمبر1 : کوئی سے دو اجزا کا حل کریں۔
(الف) جس ماء قلیل سے جانور نے پیا ہو اس کی کتنی اور کون کون سی قسمیں ہیں مع امثلہ لکھیں۔
جواب: جس ماء قلیل (تھوڑے پانی) سے جانور منہ ڈال کر پی لے، اس کے جھوٹے ہونے کے اعتبار سے چار قسمیں ہیں:
پاک و پاک کرنے والا:انسان (مسلم و کافر)، گھوڑا اور حلال جانور (گائے، بکری وغیرہ) کا جھوٹا۔
ناپاک: کتا، خنزیر اور درندے (شیر، بھیڑیا وغیرہ) کا جھوٹا۔
مکروہ:بلی، گھر میں رہنے والے سانپ، چوہے اور شکاری پرندوں کا جھوٹا۔
مشکوک:گدھے اور خچر کا جھوٹا۔
سوال نمبر 2: (الف) الِاهْدِمَامُ سے صرفِ صغیر لکھیں
(ب) مُزَّمِّلٌ کی تعلیل اور جاری ہونے والا قانون لکھیں۔
جواب: اصل میں مُتَزَمِّلٌ (اسم فاعل از باب تفعل) تھا۔ قاعدہ یہ ہے کہ جب “ت” کے بعد “ز” آئے تو “ت” کو “ز” سے بدل کر “ز” کا “ز” میں ادغام کر دیتے ہیں۔ لہذا “ت” کو “ز” کیا گیا اور ساکن کر کے ادغام کیا گیا تو “مُزَّمِّلٌ” بن گیا۔
سوال نمبر 3: (الف) ثلاثی مزید فیہ با ہمزہ وصل کے ابواب کے نام اور مثالیں:
جواب: اس کے مشہور 9 ابواب ہیں، پانچ درج ذیل ہیں:
افتعال: جیسے اِجْتِنَابٌ
انفعال: جیسے اِنْصِرَافٌ
افعلال: جیسے اِحْمِرَارٌ
استفعال: جیسے اِسْتِنْصَارٌ
افعیعال: جیسے اِعْشِيْشَابٌ
(ب) درج ذیل صیغوں کا حل:
يَعِدُ: (سہ اقسام: فعل) (شش: ثلاثی مجرد) (ہفت: مثالِ واوی) (باب: ضرب)۔ اصل میں یَوْعِدُ تھا۔
جواب: 1. نیت کرنا۔ 2. عذر کا ہونا (پانی پر قدرت نہ ہونا یا بیماری)۔ 3. پاک مٹی یا زمین کی جنس سے ہونا۔ 4. تمام عضو (چہرے اور ہاتھوں) پر مسح کا استیعاب کرنا۔ 5. وہ چیز جو مسح سے مانع ہو (جیسے چربی وغیرہ) اس کا نہ ہونا۔
(ب) مسح علی الخفین میں مقیم اور مسافر کے لیے کتنی مدت ہے؟
جواب: مقیم کے لیے مسح کی مدت ایک دن اور ایک رات (24 گھنٹے) ہے، اور مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں (72 گھنٹے) ہے۔
(ج) حیض، نفاس اور استحاضہ کی تعریف لکھیں۔
جواب:حیض: وہ خون جو بالغہ عورت کے رحم سے بیماری یا ولادت کے بغیر مخصوص ایام میں آئے۔ نفاس: وہ خون جو ولادت (بچے کی پیدائش) کے بعد آئے۔ استحاضہ: وہ خون جو بیماری کی وجہ سے آئے اور حیض و نفاس کی مدت سے کم یا زیادہ ہو۔
سوال نمبر 5: (الف) عبارت پر اعراب، ترجمہ اور کلامِ موجب کی تعریف۔
ترجمہ: جان لو کہ مستثنیٰ کا اعراب چار اقسام پر ہے، پس اگر وہ مستثنیٰ متصل ہو اور کلامِ موجب میں “الّا” کے بعد واقع ہو، یا مستثنیٰ منقطع ہو جیسا کہ گزر چکا، یا مستثنیٰ منہ پر مقدم ہو جیسے “ما جاءنی الا زیداً احدٌ”، یا اکثر (نحویوں) کے نزدیک “خلا” اور “عدا” کے بعد ہو (تو ان تمام صورتوں میں مستثنیٰ منسوب ہوگا)۔ کلامِ موجب: وہ کلام جس میں نفی، نہی یا استفہام نہ پایا جائے بلکہ بات مثبت ہو۔
سوال نمبر 6: (الف) اسم اور فعل کی علامات مع امثلہ لکھیں۔
اسم کی علامات: 1. اس پر “ال” آنا (الرجل)۔ 2. اس پر حرفِ جر آنا (فی الدارِ)۔ 3. اس پر تنوین ہونا (زیدٌ)۔ فعل کی علامات: 1. اس پر “قد” آنا (قد قامَ)۔ 2. اس پر “س” یا “سوف” آنا (سیعلمون)۔ 3. اس کا امر یا نہی ہونا (اِضرب)۔
(ب) کلام حاصل ہونے کی کوئی تین صورتیں مع امثلہ لکھیں۔
جواب:
دو اسموں سے: جیسے “زیدٌ قائمٌ” (مبتدا خبر)۔
فعل اور اسم سے: جیسے “قامَ زیدٌ” (فعل فاعل)۔
ایک کلمہ دوسرے کے حکم میں ہو: جیسے “اِضرب” (اس میں ‘انت’ ضمیر چھپی ہوئی ہے)۔
Guess Paper: تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان
الشہادۃ الثانویۃ العامۃ (میٹرک سال دوم)
2025تیسرا پرچہ: نحو (ہدایۃ النحو و شرح مائۃ عامل)
حصہ اول: ہدایۃ النحو
سوال نمبر 1: کوئی سے چھ اجزا حل کریں۔
(1) علم نحو کی تعریف، غرض اور موضوع ہدایۃ النحو کی روشنی میں لکھیں۔
جواب:تعریف: علم نحو ایسے اصولوں کا علم ہے جس کے ذریعے اسم، فعل اور حرف کے (باہمی ترکیب کے وقت) آخری حرف کے حالات اور انہیں آپس میں ملانے کا طریقہ معلوم ہو۔ غرض: اس کا مقصد عربی کلام میں لفظی غلطی سے ذہن کو بچانا ہے۔ موضوع: اس کا موضوع “کلمہ” اور “کلام” ہے۔
(2) سہ اقسام کو وجہ حصر کی صورت میں بیان کریں۔
جواب: کلمہ کی تین اقسام (اسم، فعل، حرف) کی وجہ حصر یہ ہے کہ کلمہ یا تو اپنے معنی پر بذاتِ خود دلالت کرے گا یا نہیں۔ اگر نہ کرے تو وہ حرف ہے۔ اگر کرے تو اس میں تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ پایا جائے گا یا نہیں۔ اگر پایا جائے تو وہ فعل ہے، اور اگر نہ پایا جائے تو وہ اسم ہے۔
(3) تنازع فعلین کی چاروں صورتیں مع امثلہ لکھیں۔
جواب: تنازع فعلین کی چار صورتیں یہ ہیں:
دونوں فعل فاعل کا تقاضا کریں: جیسے “ضربنی واکرمنی زیدٌ”۔
دونوں فعل مفعول کا تقاضا کریں: جیسے “ضربتُ واکرمتُ زیداً”۔
پہلا فاعل کا اور دوسرا مفعول کا تقاضا کرے: جیسے “ضربنی واکرمتُ زیداً”۔
پہلا مفعول کا اور دوسرا فاعل کا تقاضا کرے: جیسے “ضربتُ واکرمنی زیدٌ”۔
(4) منصوبات کتنے اور کون کون سے ہیں؟
جواب: منصوبات کل 12 ہیں:
مفعول مطلق، 2. مفعول بہ، 3. مفعول فیہ، 4. مفعول لہ، 5. مفعول معہ، 6. حال، 7. تمیز، 8. مستثنیٰ، 9. خبرِ کان (اور اس کے اخوات)، 10. اسمِ انّ (اور اس کے اخوات)، 11. خبرِ ما ولا مشابہ بلیس، 12. لا نفی جنس کا اسم۔
حصہ دوم: شرح مائۃ عامل
سوال نمبر 2: کوئی سے چار اجزا حل کریں۔
(1) حرف جر “ب” کے کوئی سے دو معنی مع مثال لکھیں۔جواب:
الصاق (ملنا): جیسے “بِہٖ داءٌ” (اس کے ساتھ بیماری لگی ہوئی ہے)۔
استعانت (مدد لینا): جیسے “کتبتُ بالقلمِ” (میں نے قلم کی مدد سے لکھا)۔
(2) “واللہ لاشربن اللبن” کی ترکیب نحوی کریں۔
جواب:
و: حرفِ قسم۔
اللہ: مقسم بہ (مجرور)۔ جار مجرور مل کر “اقسمُ” فعل محذوف کے متعلق ہو کر جملہ قسمیہ ہوا۔
لا: لائے تاکید (لامِ جوابِ قسم)۔
اشربنّ: فعل مضارع معروف، نون تاکید ثقیلہ، اس میں “انا” ضمیر فاعل۔
اللبن: مفعول بہ۔
فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر جوابِ قسم ہوا۔
(3) مِن، لام اور فی کے دو دو معانی:
مِن: 1. ابتدا (من البصرۃ) 2. تبعیض (اخذت من الدراہم)۔
سوال نمبر 1: درج ذیل اجزا میں سے دو کا سلیس اردو میں ترجمہ کریں۔
(الف) أول الناس إسلاما وإيمانا به هي أم المؤمنين خديجة رضى الله عنها و من الرجال أبوبكر و من الصبيان على ومن الموالي زيد بن الحارثة رضی اللہ عنہم ثم دعا الناس كافة إلى دين الله۔
ترجمہ: لوگوں میں سب سے پہلے آپ ﷺ پر ایمان لانے اور اسلام قبول کرنے والی ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ہیں، اور مردوں میں حضرت ابوبکر، بچوں میں حضرت علی اور آزاد کردہ غلاموں میں حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہم ہیں، پھر آپ ﷺ نے تمام لوگوں کو اللہ کے دین کی طرف دعوت دی۔
(ج) كان سيدنا رسول الله ﷺ أحسن الناس خلقا وأكر مهم خلقا و هو من أغراض بعثته كما أخبرنا به فقال إنما بعثت لأتمم مكارم الأخلاق و محاسن الأعمال۔
ترجمہ: ہمارے سردار رسول اللہ ﷺ لوگوں میں سب سے بہترین اخلاق اور سب سے زیادہ معزز عادات والے تھے اور یہی آپ ﷺ کی بعثت کے مقاصد میں سے ہے جیسا کہ آپ ﷺ نے ہمیں اس کی خبر دی اور فرمایا: “بیشک میں اس لیے بھیجا گیا ہوں تاکہ میں اچھے اخلاق اور نیک اعمال کی تکمیل کروں”۔
سوال نمبر 2: درج ذیل میں سے دو کا اردو میں ترجمہ کریں۔
(الف) ومن الذی أدعو وأھتف بإسمہ… الفضل أجزل والمواھب أوسع
ترجمہ: اور وہ کون ہے جسے میں پکاروں اور اس کے نام کی صدا لگاؤں اگر تیرا فضل مجھ فقیر سے روک دیا جائے؟ یہ ناممکن ہے کہ تو کسی گناہگار کو ناامید کر دے، تیرا فضل بہت بڑا اور تیری عطائیں بہت وسیع ہیں۔
(ب) وإنا قد أتیناھم بزحف یحیط… نقی القلب مصطبرا عزوفاترجمہ:
اور بیشک ہم ان کے پاس ایک ایسے لشکر کے ساتھ آئے جس نے صف در صف ان کے قلعے کی دیوار کا محاصرہ کر لیا۔ ان کے سردار نبی کریم ﷺ تھے جو کہ (حق پر) سخت، پاک دل، صبر کرنے والے اور دنیا سے بے رغبت تھے۔
سوال نمبر 3: درج ذیل میں سے پانچ جملوں کی عربی بنائیں۔
اس نے کنویں میں اتر کر پانی پیا۔ نَزَلَ فِي الْبِئْرِ وَشَرِبَ الْمَاءَ۔
اس گھر میں جدید سہولیات دستیاب ہیں۔ تَتَوَفَّرُ فِي هٰذَا الْبَيْتِ التَّسْهِيْلَاتُ الْحَدِيْثَةُ۔
مجھے مور اور اس کا ناچ بہت پسند ہے۔ يُعْجِبُنِي الطَّاوُوْسُ وَرَقْصُهُ كَثِيْراً۔
آدھی رات کو تھانیدار جاگیردار کے پاس سے گزرا۔مَرَّ الْمُفَتِّشُ بِالْإِقْطَاعِيِّ فِي نِصْفِ اللَّيْلِ۔
محمد ﷺ کی سیرت ہماری امیدوں کی جان ہے۔ سِيْرَةُ مُحَمَّدٍ ﷺ رُوْحُ آمَالِنَا۔
حصہ دوم: منطق
سوال نمبر 4: (الف) علم منطق کی تعریف، موضوع، غایت، واضع اور وجہ تسمیہ۔
تعریف: ایسے قوانین کا جاننا جن کا لحاظ رکھنا ذہن کو سوچ و بچار میں غلطی سے بچائے۔
موضوع: معلوماتِ تصوریہ اور معلوماتِ تصدیقیہ۔
غایت:فکر میں غلطی سے بچنا۔
واضع:ارسطو (Aristotle)۔
وجہ تسمیہ: یہ ‘نطق’ سے ہے، چونکہ یہ علم انسان کی قوتِ گویائی (باطنی ادراک) کو جِلا بخشتا ہے، اس لیے اسے منطق کہتے ہیں۔
(ب) قولِ شارح اور دلیل و حجت کی تعریفات مع امثلہ۔
قولِ شارح: وہ معلوم تصوری جس کے ذریعے کسی مجہول تصوری تک پہنچا جائے (جیسے انسان کو سمجھنے کے لیے ‘حیوانِ ناطق’ کہنا)۔
دلیل و حجت:وہ معلوم تصدیقی جس کے ذریعے کسی مجہول تصدیقی تک پہنچا جائے (جیسے: عالم متغیر ہے، اور ہر متغیر حادث ہے، لہذا عالم حادث ہے)۔
سوال نمبر 6: تعریفات (انتخاب):
دلالتِ لفظیہ:
جب دال (رہنمائی کرنے والی چیز) لفظ ہو (مثلاً لفظ ‘زید’ سن کر اس کی ذات کا ذہن میں آنا)۔
فصل:
وہ کلی جو اپنی حقیقت میں شریک چیزوں میں تمیز (فرق) پیدا کرے (جیسے انسان کے لیے ‘ناطق’)۔
خاصہ:
وہ کلی عرضی جو صرف ایک ہی حقیقت کے افراد کے لیے خاص ہو (جیسے انسان کے لیے ‘ہنسنا’)۔
سوال : (ب) دلالتِ لفظیہ وضعیہ کی اقسام مع تعریفات و امثلہ۔
اس کی تین اقسام ہیں:
دلالتِ مطابقی:لفظ کا اپنے پورے معنی پر دلالت کرنا (جیسے ‘انسان’ کا ‘حیوانِ ناطق’ پر دلالت کرنا)۔
دلالتِ تضمنی: لفظ کا اپنے معنی کے جز (حصے) پر دلالت کرنا (جیسے ‘انسان’ کا صرف ‘ناطق’ پر دلالت کرنا)۔
دلالتِ التزامی: لفظ کا ایسے معنی پر دلالت کرنا جو حقیقت کا حصہ تو نہ ہو مگر اس کے لیے لازم ہو (جیسے ‘انسان’ کا ‘کاتب’ یا ‘علم قبول کرنے والا’ ہونے پر دلالت کرنا)۔
سوال: (ب) درج ذیل میں سے تین کی تعریفات و امثلہ۔
تصدیق: نسبتِ خبریہ کے وقوع یا عدمِ وقوع کا اذعان (یقین) کر لینا۔ (مثال: زید کھڑا ہے)۔
قضیہ: وہ قول جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکے۔ (مثال: پالا ٹھنڈا ہے)۔
منقول: وہ لفظ جو ایک معنی سے دوسرے معنی کی طرف منتقل ہو گیا ہو اور پہلا معنی ترک کر دیا گیا ہو۔ (مثال: ‘صلاۃ’ جو دعا سے نماز کے معنی میں منتقل ہوا)۔
سوال نمبر 6: تعریفات (پانچ مطلوب ہیں):
دلالتِ لفظیہ:
جب رہنمائی کرنے والی چیز لفظ ہو (مثلاً لفظ ‘قلم’ سن کر لکھنے والی چیز کا ذہن میں آنا)۔
فصل:
وہ کلی جو اپنی حقیقت میں شریک چیزوں میں تمیز (فرق) پیدا کرے (جیسے انسان کے لیے ‘ناطق’)۔
خاصہ:
وہ کلی عرضی جو صرف ایک ہی حقیقت کے افراد کے لیے خاص ہو (جیسے انسان کے لیے ‘ہنسنا’)۔
مفہوم:
وہ صورت جو کسی چیز کے مقابلے میں عقل میں آئے۔
تصدیق:
نسبتِ خبریہ کے وقوع یا عدمِ وقوع کا اذعان (یقین) کر لینا۔
Guess Paper: تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان
الشہادۃ الثانویۃ العامۃ (میٹرک سال دوم)
2025پانچواں پرچہ: حساب (Math)
حل شدہ پرچہ
سوال نمبر 1:(i) درج ذیل فی صد کو اعشاریہ میں تبدیل کیجئے (تین درجہ اعشاریہ تک):
120%:120/100=1.200
12%:12/100=0.120
8%:8/100=0.080
92%:92/100=0.920
457%:457/100=4.570
(ii) خالی جگہ پر کریں:
لفظ پرسنٹ (Percent) لاطینی لفظ Per Centum کی مختصر شکل ہے۔
نسبت کیلئے علامت (:) ہے۔
دو یا دو سے زیادہ تناسبوں کے درمیان تعلق کو تناسبِ مرکب کہتے ہیں۔
a:b کی نسبت میں ‘a’ کو طرفین (یا پہلی رقم) کہتے ہیں۔
سوال نمبر 2:(i) 453% کو بطور کسر آسان شکل میں واضح کریں:
حل:453%=453/100 (یہ مزید تقسیم نہیں ہو سکتا، لہٰذا یہی آسان ترین کسر ہے)۔
(ii) اگر کالونی کے 56 گھروں میں سے ہر گھر میں کار ہو تو کتنے فیصد گھروں میں کار نہیں ہوگی؟
حل: چونکہ سوال کے مطابق تمام (56) گھروں میں کار موجود ہے، اس لیے 0 گھر ایسے ہیں جن میں کار نہیں۔ فیصد = (0/56)×100=0% گھروں میں کار نہیں ہوگی۔
سوال نمبر 3: میچ ہارنے کی فیصد معلوم کریں۔
جیتے گئے میچ = 62% | برابر رہنے والے میچ = 26% کھیلے گئے کل میچ = 100% ہارے گئے میچ = 100%−(62%+26%)100%−88%=12%
سوال نمبر3: 6 روپے اور 72 روپے فی درجن کے درمیان نسبت۔
پہلی رقم = 6 روپے دوسری رقم (فی عدد) = 72/12=6 روپے نسبت: 6:6⇒1:1
سوال نمبر 4: گاڑی کی رفتار معلوم کریں
(تناسبِ معکوس) رفتار: 45 کلومیٹر →x | وقت: 5 گھنٹے → 3 گھنٹے (وقت کم کرنے کے لیے رفتار بڑھانی پڑے گی، اس لیے یہ تناسبِ معکوس ہے) x/45=5/3x=(5/3)×45x=5×15=75کلومیٹر فی گھنٹہ
Guess Paper: تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان
الشہادۃ الثانویۃ العامۃ (میٹرک سال دوم)
2025چھٹا پرچہ: انگریزی (English)
Q.1: Translate any one of the following into Urdu.
(i) Such a thorough transformation of man and society owes to the Holy Prophet’s (ﷺ) deep faith in Allah Almighty…
ترجمہ: انسان اور معاشرے کی ایسی مکمل تبدیلی نبی کریم ﷺ کا اللہ تعالیٰ پر پختہ ایمان، انسانیت کے لیے آپ ﷺ کی محبت اور آپ ﷺ کے کردار کی شرافت کی مرہونِ منت ہے۔ بلاشبہ آپ ﷺ کی زندگی پیروی کے لیے ایک مکمل نمونہ ہے۔ نبی کریم ﷺ کی زندگی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: “آپ ﷺ کے اخلاق اور کردار قرآن مجید کا جیتا جاگتا نمونہ ہیں۔”
(ii) The preparation for this journey was made at the house of Hazrat Abu Bakr Siddique
(رضی اللہ عنہ)…ترجمہ: اس سفر کی تیاری حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے گھر پر کی گئی۔ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے اس سلسلے میں مفید خدمات سرانجام دیں۔ انہوں نے اس سفر کے لیے کھانا تیار کیا۔ انہوں نے کھانے کو اپنی ہی کمر بند (پٹکے) سے اونٹ کی پشت پر باندھ دیا کیونکہ اور کوئی چیز نہ مل سکی۔ اس خدمت کے صلے میں نبی کریم ﷺ نے انہیں “ذات النطاقین” کا لقب عطا فرمایا۔
Q.2: Write an essay of 120 words on any one of the following.(ii) My Jamia
My Jamia The name of my Jamia is [Insert Name]. It is one of the most famous educational institutions in our city. It has a grand building with many spacious classrooms, a large library, and a beautiful mosque. The environment of my Jamia is very peaceful and religious. There are many qualified teachers who teach us the Holy Quran, Hadith, Fiqh, and other modern subjects with great care. They focus not only on our education but also on our moral training. There is a big playground where students play in the evening. I love my Jamia because it is lighting the candle of knowledge and helping us to become better Muslims and citizens. May it prosper forever! hereafter.
Q.3: Use any three of the following words in your own sentences.
Answer (i) Motherland: We should always be ready to defend our motherland.
Answer (ii) Sacrifice: Hazrat Asma (RA) made a great sacrifice for the cause of Islam.
Answer (iii) Generous: Hazrat Ayesha (RA) was so generous that she gave away all her money to the poor.
Q.4: Write an application to the principal for Sick leave.
Answer:
To,
The Principal, Jamia [Name], [City]. Subject: Application for Sick Leave. Respected Sir, It is stated with due respect that I am suffering from high fever and a bad cold. My doctor has advised me to take complete rest for two days. Therefore, I cannot attend the Jamia. Kindly grant me leave for two days from [Date] to [Date]. I shall be very thankful to you.
Yours obediently,
[Your Name],
Roll No: [Number].
Q.4: Answer any three of the following.
For which ability were Arabs famous?
Answer:The Arabs were famous for their remarkable memory and eloquence.
What was the first revelation?
Answer:The first revelation was: “Read in the name of thy Lord Who created; created man from a clot… Read and thy Lord is most Bountiful…”
How will you define patriotism?
Answer: Patriotism means love for the motherland or devotion to one’s country.
What is the central idea of the poem (Daffodils)?
Answer:The central idea of the poem is the beauty of nature and its soothing impact on the human mind.
Q.6: Translate any five of the following sentences into English.