Tanzeem ul Madaris Solved Guess Paper 2025 | PDF (طلباء کے لیے) عالیہ سال اول


الورقۃ الاولٰی: التفسیر وأصولہ

(تفسیر جلالین و الفوز الکبیر)

وقت: 3 گھنٹے | کل نمبر: 100 ہدایت: حصہ اول (تفسیر) سے دو سوال اور حصہ دوم (اصولِ تفسیر) سے آخری سوال حل کرنا لازمی ہے۔

قسم اول: التفسیر (تفسیر جلالین)

سوال نمبر 1: درج ذیل عبارت پر اعراب لگائیں، اس کا مکمل ترجمہ کریں اور مفسر کے اغراض (وضاحتیں) تفصیل سے بیان کریں: “وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ، وَمَا أَنتُم بِمُعْجِزِينَ فِي الْأَرْضِ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ اللَّهِ مِن وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ.”
جواب: 1۔ اعراب: (عبارت پر مکمل اعراب درج ہیں) وَمَاۤ اَصَابَکُمۡ مِّنۡ مُّصِیۡبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتۡ اَیۡدِیۡکُمۡ وَ یَعۡفُوۡ عَنۡ کَثِیۡرٍ ؕ وَ مَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِیۡنَ فِی الۡاَرۡضِ ۪ وَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مِنۡ وَلِیٍّ وَّ لَا نَصِیۡرٍ۔
2۔ ترجمہ: “اور تمہیں جو کوئی مصیبت پہنچتی ہے وہ تمہارے ہی ہاتھوں کی کمائی (اعمال) کا نتیجہ ہے، اور وہ (اللہ) بہت سے گناہوں کو تو معاف ہی فرما دیتا ہے۔ اور تم زمین میں (بھاگ کر اللہ کو) عاجز نہیں کر سکتے، اور اللہ کے سوا تمہارا نہ کوئی دوست ہے اور نہ کوئی مددگار۔”
3۔ اغراضِ مفسر (تفصیلی تشریح): امام جلال الدین السیوطیؒ نے اس آیت کی تفسیر میں درج ذیل باریکیاں بیان کی ہیں:
  • خطاب کا تعین: مفسر کے مطابق یہاں خطاب خاص طور پر مومنین سے ہے تاکہ انہیں معلوم ہو کہ دنیا کی تکلیفیں ان کے گناہوں کا کفارہ بن رہی ہیں۔
  • ایدیکم (ہاتھوں) کی وضاحت: مفسر فرماتے ہیں کہ گناہ تو انسان کے تمام اعضاء سے ہوتے ہیں، لیکن یہاں “ہاتھوں” کا ذکر اس لیے ہے کہ انسان اکثر کام ہاتھوں ہی سے کرتا ہے (یہ کلامِ عرب میں “مجاز” کا اسلوب ہے)۔
  • عفوِ الٰہی: اللہ تعالیٰ بہت سے گناہوں پر دنیا میں سزا نہیں دیتا، بلکہ معاف کر دیتا ہے۔ اگر وہ ہر گناہ پر پکڑ کرتا تو زمین پر کوئی جاندار باقی نہ رہتا۔
  • عاجز نہ کر سکنا: “معجزین” سے مراد یہ ہے کہ کوئی گناہگار اللہ کی گرفت سے بھاگ کر زمین کے کسی کونے میں پناہ نہیں لے سکتا۔

سوال نمبر 2: سورہ الشوریٰ کی روشنی میں “وحی” کی اقسام اور اس کے نزول کے طریقے بیان کریں۔ نیز مفسر نے “وحی من وراء حجاب” کی کیا وضاحت کی ہے؟
جواب: 1۔ وحی کے طریقے: سورہ الشوریٰ کی آیت “وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ…” کی روشنی میں وحی کے تین طریقے ہیں:
  • وحی (القاء): اللہ تعالیٰ براہِ راست نبی کے دل میں کوئی بات ڈال دیتا ہے یا خواب میں حکم دیتا ہے۔
  • من وراء حجاب (پردے کے پیچھے سے): اللہ تعالیٰ اپنا کلام سنائے لیکن کلام کرنے والا نظر نہ آئے، جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ طورِ سینا پر ہوا۔
  • ارسالِ رسول (فرشتے کے ذریعے): اللہ تعالیٰ حضرت جبرائیل علیہ السلام کو اپنا پیغام دے کر بھیجے جو نبی کے سامنے وحی پڑھے۔
2۔ مفسر کی وضاحت:
امام جلالین فرماتے ہیں کہ “وحی” کا پہلا طریقہ (القاء) بیداری اور نیند دونوں میں ہو سکتا ہے۔ “من وراء حجاب” کی تشریح میں مفسر کہتے ہیں کہ یہ کلام ایسا ہے جیسے انسان پردے کے پیچھے سے آواز سنے، جس میں اللہ کی ذات کی رویت (دیدار) نہیں ہوتی بلکہ صرف کلام سنائی دیتا ہے۔

قسم دوم: اصولِ تفسیر (الفوز الکبیر)
سوال نمبر 3 (لازمی): شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کے نزدیک “قرآن کو ابواب و فصول کی صورت میں کیوں نہیں لکھا گیا؟” اس کی حکمت اور کلامِ شاہی کے اسلوب پر تفصیلی نوٹ لکھیں۔
جواب: شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ اپنی کتاب “الفوز الکبیر” میں ایک اہم سوال اٹھاتے ہیں کہ جیسے انسان اپنی کتابوں کو چیپٹرز (Abwab) میں بانٹتے ہیں، قرآن میں ایسا کیوں نہیں۔
حکمت اور وجوہات:
  1. قرآن تصنیف نہیں کلام ہے: انسان جب کتاب لکھتا ہے تو اسے مضامین کے حساب سے بانٹتا ہے، لیکن قرآن مجید “تصنیف” نہیں بلکہ “کلامِ شاہی” (فرمانِ الٰہی) ہے۔
  2. فرمانِ بادشاہ کا اسلوب: جس طرح ایک بادشاہ جب اپنے ملک میں فرامین جاری کرتا ہے، تو وہ ضرورت کے مطابق احکام دیتا ہے۔ اس میں ابواب نہیں ہوتے بلکہ ہر حکم اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔
  3. تذکیر کا اسلوب: قرآن کا مقصد لوگوں کو نصیحت (تذکیر) کرنا ہے۔ نصیحت میں ایک ہی بات کو مختلف مقامات پر دہرانا اثر پیدا کرتا ہے۔
  4. تلوینِ کلام: قرآن کا اسلوب “تلوین” (رنگ بدلنا) ہے۔ ایک ہی سورت میں توحید، قصص، احکام اور آخرت کا ذکر ساتھ ساتھ آتا ہے تاکہ قاری اکتائے نہیں اور ہر پہلو سے ہدایت پائے۔

الورقۃ الثانیۃ: الحدیث وأصولہ

(مشکوٰۃ المصابیح و مقدمہ)

وقت: 3 گھنٹے | کل نمبر: 100 نوٹ: حصہ اول سے دو اور حصہ دوم سے ایک سوال کا تفصیلی جواب دیں (یہاں تمام حل شدہ ہیں)۔

قسم اول: الحدیث (مشکوٰۃ المصابیح)

سوال نمبر 1: “الکبائر” سے متعلق درج ذیل حدیث کا مکمل ترجمہ کریں، اعراب لگائیں اور اس میں مذکور چاروں گناہوں کی تفصیل و سنگینی بیان کریں۔ “الْكَبَائِرُ: الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ، وَالْيَمِينُ الْغَمُوسُ.”
جواب: 1۔ اعراب و ترجمہ: اَلْكَبَائِرُ: اَلْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ، وَالْيَمِينُ الْغَمُوسُ۔ ترجمہ: “کبیرہ گناہ یہ ہیں: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، کسی جان کو (ناحق) قتل کرنا، اور جھوٹی قسم کھانا۔”
2۔ تفصیلی تشریح و سنگینی:
  • شرک باللہ: یہ کائنات کا سب سے بڑا گناہ اور “ظلمِ عظیم” ہے۔ اللہ کی ذات یا صفات میں کسی کو شریک کرنا ایسا گناہ ہے جس کی معافی بغیر توبہ کے ممکن نہیں۔
  • عقوق الوالدین: اسلام میں اللہ کی توحید کے بعد سب سے زیادہ زور والدین کے ادب پر دیا گیا ہے۔ یہاں “عقوق” سے مراد والدین کو ایذا دینا یا ان کا حکم نہ ماننا ہے۔
  • قتلِ نفس: کسی انسان کو ناحق قتل کرنا پوری انسانیت کو قتل کرنے کے برابر ہے۔ حدیث میں اسے والدین کی نافرمانی کے ساتھ ذکر کرنا اس کی قباحت کو واضح کرتا ہے۔
  • یمینِ غموس: وہ جھوٹی قسم جو جان بوجھ کر کسی کا حق مارنے کے لیے کھائی جائے۔ اسے “غموس” (ڈوبو دینے والی) اس لیے کہتے ہیں کیونکہ یہ بندے کو گناہ اور پھر جہنم میں ڈبو دیتی ہے۔

سوال نمبر 2: “خمس صلوات فی الیوم واللیلۃ” والی حدیث (قصہ نجدی) کا تفصیلی متن لکھیں اور بتائیں کہ اس میں “حج” اور “کلمہ” کا ذکر کیوں نہیں کیا گیا؟
جواب: 1۔ واقعہ کا خلاصہ: اہلِ نجد میں سے ایک شخص (ضمام بن ثعلبہ) بکھرے ہوئے بالوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اسلام کے فرائض کے بارے میں پوچھا۔ آپ ﷺ نے اسے پانچ نمازوں، زکوٰۃ اور روزوں کا حکم دیا۔ اس نے قسم کھائی کہ وہ ان میں نہ کمی کرے گا نہ اضافہ، جس پر آپ ﷺ نے اسے “کامیاب” قرار دیا۔
2۔ حج اور کلمہ کا ذکر نہ ہونے کی وجوہات (بی اے لیول کی تفصیل): محدثین (مثلاً علامہ کرمانی اور ابن حجر) نے اس کی درج ذیل وجوہات بیان کی ہیں:
  • کلمہ (شہادتین): وہ شخص پہلے ہی اسلام قبول کر چکا تھا اور صرف “ارکانِ اسلام” کی تفصیل پوچھنے آیا تھا، اس لیے بنیادی کلمے کے ذکر کی ضرورت نہ تھی۔
  • حج: اس وقت تک حج فرض نہیں ہوا تھا (حج 9 ہجری میں فرض ہوا)۔ یہ واقعہ اس سے پہلے کا ہے، اس لیے آپ ﷺ نے اس کا تذکرہ نہیں فرمایا۔

قسم دوم: أصول الحدیث (مقدمہ مشکوٰۃ)

سوال نمبر 3 (لازمی): “حدیثِ صحیح”، “حدیثِ حسن” اور “حدیثِ ضعیف” کی جامع تعریفات کریں اور ان کے درمیان پائے جانے والے فرق کو مثالوں سے واضح کریں۔
جواب: 1۔ حدیثِ صحیح: وہ حدیث جس کی سند شروع سے آخر تک متصل ہو، اسے روایت کرنے والے “عادل” (نیک) اور “ضابط” (مکمل حافظے والے) ہوں، اور وہ حدیث کسی پوشیدہ علت (بیماری) یا شذوذ سے پاک ہو۔
  • حکم: یہ بالاتفاق حجت ہے اور اس پر عمل واجب ہے۔
2۔ حدیثِ حسن: اس کی تمام شرائط “صحیح” والی ہی ہیں، صرف ایک فرق ہے کہ اس کے راوی کا “ضبط” (حافظہ) صحیح کے راوی کے مقابلے میں تھوڑا کم (قلیل) ہوتا ہے۔
  • حکم: یہ بھی شرعی احکام میں حجت اور قابلِ قبول ہے۔
3۔ حدیثِ ضعیف: وہ حدیث جس میں صحیح یا حسن کی شرائط میں سے کوئی ایک شرط بھی مفقود ہو (مثلاً سند ٹوٹ جائے یا راوی کا حافظہ بہت خراب ہو)۔
  • حکم: عقائد اور حلال و حرام میں یہ حجت نہیں، البتہ “فضائلِ اعمال” میں اسے قبول کیا جا سکتا ہے۔

الورقۃ الثالثۃ: أصول الفقہ (حسامی)

وقت: 3 گھنٹے | کل نمبر: 100 نوٹ: تمام سوالات کے تفصیلی جوابات تحریر کریں۔

سوال نمبر 1: “کتاب اللہ” کے بیان میں “خاص” کی تعریف کریں اور اس کا حکم بیان کریں۔ نیز بتائیں کہ کیا “خاص” کے ذریعے خبرِ واحد یا قیاس پر زیادتی کرنا جائز ہے؟
جواب: 1۔ خاص کی تعریف: اصطلاحِ اصول میں “خاص” وہ لفظ ہے جو ایک ہی معنی یا ایک ہی نوع کے لیے وضع کیا گیا ہو (مثلاً: ایک شخص کا نام ‘زید’، یا عدد ‘ثلاثہ’ یعنی تین)۔
2۔ خاص کا حکم: خاص کا حکم یہ ہے کہ اس کا معنی قطعی اور یقینی ہوتا ہے۔ اس پر عمل کرنا واجب ہے اور اس میں کسی تاویل یا گنجائش کی ضرورت نہیں ہوتی۔
3۔ خبرِ واحد یا قیاس پر زیادتی کا مسئلہ:
  • احناف کا موقف: احناف کے نزدیک “خاص” چونکہ قطعی ہے، اس لیے اس پر خبرِ واحد (وہ حدیث جو متواتر نہ ہو) یا قیاس کے ذریعے زیادتی نہیں کی جا سکتی۔ اگر کوئی ایسی حدیث آئے جو قرآن کے “خاص” حکم میں اضافہ کرے، تو احناف اسے قبول نہیں کرتے کیونکہ قرآن قطعی ہے اور خبرِ واحد ظنی ہے۔
  • مثال: قرآن میں وضو کے فرائض میں “تین اعضاء کا دھونا اور سر کا مسح” خاص طور پر مذکور ہے۔ اب اگر کوئی خبرِ واحد یہ کہے کہ “نیت” بھی فرض ہے، تو احناف اسے فرض نہیں بلکہ سنت کہیں گے، کیونکہ قرآن کے خاص نص پر خبرِ واحد سے زیادتی جائز نہیں۔

سوال نمبر 2: “حقیقت” اور “مجاز” کی مکمل تعریف کریں، ان کے درمیان تعلق (علاقہ) کی وضاحت کریں اور بتائیں کہ کیا ایک ہی کلمہ سے “حقیقت اور مجاز” دونوں مراد لینا جائز ہے؟
جواب: 1۔ حقیقت و مجاز کی تعریف:
  • حقیقت: وہ لفظ جو اپنے اس معنی میں استعمال ہو جس کے لیے وہ وضع کیا گیا ہے (مثلاً: شیر کا لفظ درندے کے لیے)۔
  • مجاز: وہ لفظ جو اپنے اصل معنی کے بجائے کسی دوسرے (غیر موضوع لہ) معنی میں استعمال ہو، بشرطیکہ ان کے درمیان کوئی تعلق موجود ہو (مثلاً: شیر کا لفظ بہادر آدمی کے لیے)۔
2۔ حقیقت اور مجاز کا اجتماع (جمع ہونا): امام ابوحنیفہؒ اور جمہور احناف کے نزدیک ایک ہی کلمہ سے بیک وقت حقیقت اور مجاز دونوں مراد لینا جائز نہیں ہے۔
  • وجہ: اس لیے کہ حقیقت اور مجاز آپس میں متضاد ہیں۔ ایک کہتا ہے کہ لفظ اپنے اصلی معنی میں ہے، دوسرا کہتا ہے کہ اصلی میں نہیں ہے۔ دونوں کا ایک ساتھ جمع ہونا عقلاً محال ہے۔
  • مثال:


سوال نمبر 3: “امر” (حکم) کے صیغے کی بحث کریں۔ کیا “امر” تکرار (بار بار کرنا) کا تقاضا کرتا ہے یا صرف ایک مرتبہ کرنا کافی ہے؟ ائمہ کے اختلاف کی روشنی میں لکھیے۔
جواب: 1۔ امر کا لغوی و اصطلاحی معنی: امر کا معنی ہے کسی کو کوئی کام کرنے کا حکم دینا۔ جیسے قرآن میں ہے: “اَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ” (نماز قائم کرو)۔
2۔ تکرار کا مسئلہ: کیا اللہ کا ایک بار حکم دینا یہ بتاتا ہے کہ وہ کام بار بار کیا جائے (مثلاً نماز) یا صرف ایک بار زندگی میں کر لینا کافی ہے؟
  • احناف کا موقف: امر کا صیغہ بذاتِ خود “تکرار” (بار بار کرنے) کا تقاضا نہیں کرتا۔ امر کا مقصد صرف اس کام کی حقیقت کو طلب کرنا ہے۔ اگر وہ کام ایک بار کر لیا جائے تو حکم پورا ہو جائے گا۔
  • نماز اور روزے کی تکرار کیوں؟: احناف فرماتے ہیں کہ نماز اور روزے میں جو تکرار ہے وہ “امر” کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کے اسباب (وقت کا آنا یا رمضان کا آنا) کے بار بار آنے کی وجہ سے ہے۔
  • حج کی مثال: حج کا سبب (بیت اللہ) ایک ہی ہے، اس لیے حج زندگی میں صرف ایک بار فرض ہے، چاہے امر کا صیغہ وہی کیوں نہ ہو۔

سوال نمبر 4: “استحسان” کی تعریف کریں اور اس کی بنیادی اقسام تحریر کریں۔
جواب: 1۔ استحسان کی تعریف: قیاسِ جلی (واضح قیاس) کو چھوڑ کر کسی مضبوط دلیل کی بنا پر قیاسِ خفی (پوشیدہ قیاس) کی طرف رجوع کرنا “استحسان” کہلاتا ہے۔
2۔ استحسان کی اقسام:
  1. استحسان بالنص: جب قرآن یا حدیث کی کسی نص کی وجہ سے قیاس کو چھوڑ دیا جائے (مثلاً: روزے میں بھول کر کھانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، حالانکہ قیاس کہتا ہے کہ ٹوٹنا چاہیے)۔
  2. استحسان بالاجماع: لوگوں کے تعامل یا اجماع کی وجہ سے قیاس چھوڑنا (مثلاً: استصناع یعنی آرڈر پر چیز بنوانا)۔
  3. استحسان بالضرورت: مجبوری یا ضرورت کی وجہ سے حکم میں نرمی کرنا۔

الورقۃ الرابعۃ: الفقہ (القدوری)

وقت: 3 گھنٹے | کل نمبر: 100 نوٹ: درج ذیل تمام سوالات کے تفصیلی جوابات تحریر کریں۔

سوال نمبر 1: “نکاح” کے لغوی و اصطلاحی معنی لکھیں۔ نیز ان الفاظ کی تفصیل بیان کریں جن سے نکاح منعقد ہوتا ہے اور جن سے نہیں ہوتا۔ احناف اور شوافع کا مدلل اختلاف تحریر کریں۔
جواب: 1۔ لغوی و اصطلاحی تعریف:
  • لغوی معنی: نکاح کے لغوی معنی “جمع کرنا” یا “ملانا” کے ہیں۔
  • اصطلاحی معنی: نکاح وہ عقد ہے جس کے ذریعے مرد کو شرعی طور پر عورت سے نفع حاصل کرنے (ملکِ متعہ) کا حق حاصل ہو جاتا ہے۔
2۔ الفاظِ نکاح (احناف کا موقف): امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک نکاح ان دو طرح کے الفاظ سے ہو جاتا ہے:
  • الفاظِ صریحہ: جیسے “نکاح” اور “تزویج” (مثلاً: میں نے تجھ سے نکاح کیا)۔
  • الفاظِ کنایہ (تملیک): وہ الفاظ جو ملکیت پر دلالت کریں، جیسے “ہبہ” (تحفہ دینا)، “تملیک” (مالک بنانا)، “صدقہ” اور “بیع” (فروخت کرنا)۔ اگر ان الفاظ سے نکاح کی نیت ہو تو احناف کے نزدیک نکاح ہو جائے گا۔
3۔ ائمہ کا اختلاف:
  • احناف کی دلیل: نکاح کا مقصد عورت کے منافع کا مالک بننا ہے، لہٰذا جو لفظ بھی ملکیت پر دلالت کرے گا اس سے نکاح ہو جائے گا کیونکہ اصل اعتبار معنی کا ہے، لفظ کا نہیں۔
  • امام شافعیؒ کا موقف: آپ کے نزدیک نکاح صرف “نکاح” اور “تزویج” کے الفاظ سے ہی ہوتا ہے۔ آپ کی دلیل یہ ہے کہ قرآن میں صرف یہی دو الفاظ آئے ہیں اور نکاح ایک عبادت ہے، اس لیے اس میں الفاظ کی پابندی ضروری ہے۔

سوال نمبر 2: “حرمتِ رضاعت” (دودھ پینا) سے کیا مراد ہے؟ رضاعت کی مدت اور اس کی وہ مقدار بیان کریں جس سے نکاح حرام ہو جاتا ہے۔ ائمہ کے اقوال تفصیل سے لکھیں۔
جواب: 1۔ تعریف: مدتِ رضاعت کے اندر کسی عورت کا دودھ بچے کے پیٹ یا حلق میں پہنچنا “رضاعت” کہلاتا ہے۔ اس سے وہ عورت بچے کی رضاعی ماں بن جاتی ہے اور نکاح حرام ہو جاتا ہے۔
2۔ مدتِ رضاعت (سب سے اہم بحث):
  • امام ابوحنیفہؒ: آپ کے نزدیک رضاعت کی مدت 30 ماہ (ڈھائی سال) ہے۔ آپ کی دلیل سورہ احقاف کی آیت ہے جس میں حمل اور دودھ چھڑانے کی مدت تیس ماہ بتائی گئی ہے۔
  • صاحبین (امام ابویوسف و امام محمد): ان کے نزدیک مدت دو سال (24 ماہ) ہے۔ ان کی دلیل سورہ بقرہ کی آیت “حولین کاملین” ہے۔ (فتویٰ صاحبین کے قول پر ہے)۔
3۔ مقدارِ رضاعت:
  • احناف: دودھ کی مقدار چاہے تھوڑی ہو یا زیادہ (صرف ایک قطرہ ہی کیوں نہ ہو)، اگر وہ حلق میں پہنچ گیا تو حرمت ثابت ہو جائے گی۔
  • امام شافعیؒ: آپ کے نزدیک کم از کم پانچ مرتبہ بچہ پیٹ بھر کر دودھ پیئے تو حرمت ثابت ہوگی۔
  • دلیلِ احناف: قرآن میں “واُمہٰتکم اللّٰتی ارضعنکم” مطلق ہے، یہاں کسی خاص مقدار کی شرط نہیں، اس لیے تھوڑا یا زیادہ برابر ہے۔

سوال نمبر 3: طلاق کی کتنی اقسام ہیں؟ “طلاقِ بائن” اور “طلاقِ رجعی” کے درمیان فرق واضح کریں اور بتائیں کہ “کنایہ” کے الفاظ سے کون سی طلاق واقع ہوتی ہے؟
جواب: 1۔ طلاق کی اقسام:
  • رجعی: جس میں شوہر عدت کے اندر رجوع کر سکتا ہے۔
  • بائن: جس میں نکاح فوراً ٹوٹ جاتا ہے اور رجوع کے لیے دوبارہ نکاح (ایجاب و قبول) ضروری ہوتا ہے۔
  • مغلظہ: تین طلاقیں، جس کے بعد حلالہ کے بغیر نکاح ممکن نہیں۔
2۔ طلاقِ کنایہ کا حکم: کنایہ کے الفاظ (مثلاً: تو جدا ہے، اپنے گھر چلی جا، تو آزاد ہے) سے ہمیشہ طلاقِ بائن واقع ہوتی ہے، بشرطیکہ شوہر کی نیت طلاق کی ہو یا وہ غصے کی حالت میں ہو۔
  • قاعدہ: صریح الفاظ سے طلاقِ رجعی ہوتی ہے (بشرطیکہ تین نہ ہوں)، جبکہ کنایہ سے بائن ہوتی ہے۔

سوال نمبر 4: “کفائت” (برابری) سے کیا مراد ہے؟ نکاح میں کن چیزوں میں برابری کا اعتبار کیا جاتا ہے؟
جواب: 1۔ تعریف: نکاح میں مرد کا عورت کے برابر یا اس سے بہتر ہونا “کفائت” کہلاتا ہے۔ یہ عورت اور اس کے اولیاء کے وقار کے لیے ضروری ہے۔
2۔ برابری کے اوصاف (احناف کے نزدیک): نکاح میں درج ذیل 6 چیزوں میں کفائت دیکھی جاتی ہے:
  1. نسب: عرب کا غیر عرب سے نکاح (عرب میں قریش کا غیر قریش سے)۔
  2. اسلام: جس کا باپ دادا مسلمان ہو وہ اس کے برابر نہیں جس کا صرف باپ مسلمان ہو۔
  3. حریت (آزادی): آزاد غلام کے برابر نہیں۔
  4. دیانت (تقویٰ): فاسق و فاجر شخص نیک عورت کا کفو نہیں۔
  5. مال: مرد کے پاس اتنا مال ہو کہ وہ مہر اور نفقہ (خرچہ) دے سکے۔
  6. پیشہ (حرفہ): گھٹیا کام کرنے والا معزز پیشہ ور کے برابر نہیں۔

الورقۃ الخامسۃ: الأدب والبلاغة (عربی ادب و بلاغت)

وقت: 3 گھنٹے | کل نمبر: 100 نوٹ: دونوں حصوں سے سوالات کے تفصیلی جوابات تحریر کریں۔

قسمِ اول: عربی ادب (نثر و نظم)

سوال نمبر 1: مقاماتِ حریری (المقامۃ الاولٰی) کی درج ذیل عبارت پر اعراب لگائیں اور اس کا سلیس اردو ترجمہ کریں۔ نیز اس میں موجود “سجع” کی نشاندہی کریں۔
عبارت: “حَدَّثَ الْحَارِثُ بْنُ هَمَّامٍ قَالَ: شَآنِي مُنْذُ أَحْلَلْتُ مَنَابِتِي، وَرَحَلْتُ عَنْ مَنَابِتِي، أَنْ أُجِيلَ الْمَهْرِيَّةَ فِي الْمَهْمَةِ، وَأَجُوبَ الْبَيْدَاءَ فِي طَلَبِ الْفَائِدَةِ.”
جواب: 1۔ اعراب و ترجمہ:
  • اعراب: حَدَّثَ الْحَارِثُ بْنُ هَمَّامٍ قَالَ: شَأْنِي مُنْذُ أَحْلَلْتُ مَنَابِتِي، وَرَحَلْتُ عَنْ مَنَابِتِي، أَنْ أُجِيلَ الْمَهْرِيَّةَ فِي الْمَهْمَةِ، وَأَجُوبَ الْبَيْدَاءَ فِي طَلَبِ الْفَائِدَةِ۔
  • ترجمہ: حارث بن ہمام بیان کرتے ہیں کہ: جب سے میں نے اپنے ٹھکانوں (گھر) کو چھوڑا ہے اور اپنی جائے پیدائش سے کوچ کیا ہے، میرا یہ طریقہ رہا ہے کہ میں نے تیز رفتار اونٹنی کو بیابانوں میں دوڑایا ہے اور فائدے کی تلاش میں جنگلوں کی خاک چھانی ہے۔
2۔ ادبی خصوصیت (سجع): مقاماتِ حریری کی خاص پہچان اس کی “سجع” (قافیہ بندی) ہے۔ مذکورہ عبارت میں لفظ “مَنَابِتِي” اور “مَنَابِتِي” کے درمیان اور “الْمَهْمَةِ” و “الْفَائِدَةِ” کے درمیان جو ہم آہنگی ہے، اسے سجع کہتے ہیں۔ یہ عبارت کو موسیقی اور تاثیر عطا کرتی ہے۔

سوال نمبر 2: قصیدہ بردہ شریف کے درج ذیل اشعار کا ترجمہ کریں اور خط کشیدہ الفاظ کی صرفی تحقیق پیش کریں۔ “أَمَن تذكر جيرانٍ بذي سَلَمٍ … مزجتَ دمعاً جرى من مقلةٍ بدمِ”
جواب:
  • ترجمہ: کیا مقامِ “ذی سلم” کے پڑوسیوں کی یاد کی وجہ سے تم نے اپنی آنکھوں سے بہنے والے آنسوؤں میں خون ملا لیا ہے؟ (یعنی تم عشقِ رسول ﷺ میں اس قدر روئے ہو کہ آنسوؤں کے بجائے خون بہنے لگا ہے)۔
  • صرفی تحقیق:
    1. تَذَكُّر: مصدر، باب تفعل، مادہ (ذ ک ر)، معنی: یاد کرنا۔
    2. مَزَجْتَ: فعل ماضی معروف، صیغہ واحد مذکر حاضر، باب نصر ینصر، مادہ (م ز ج)، معنی: تم نے ملا دیا۔
    3. مُقْلَة: اسم، معنی: آنکھ کی پتلی یا ڈھیلا۔

قسمِ ثانی: البلاغۃ (تلخیص المفتاح)

سوال نمبر 3: “فصاحت” اور “بلاغت” کے درمیان فرق واضح کریں اور کلام کی فصاحت میں پائے جانے والے تین بڑے عیوب (ضعفِ تالیف، تنافرِ کلمات، تعقید) کی تعریف مع امثلہ کریں۔
جواب: 1۔ فصاحت و بلاغت کا فرق:
  • فصاحت: لفظ یا کلام کا زبان پر سہل (آسان) ہونا اور سمعی طور پر بھلا لگنا۔
  • بلاغت: کلام کا مقتضیٰ الحال (موقع و محل) کے مطابق ہونا۔ ہر بلیغ کلام فصیح ہوتا ہے، لیکن ہر فصیح کلام کا بلیغ ہونا ضروری نہیں۔
2۔ کلام کے عیوب:
  1. ضعفِ تالیف: کلام کا نحوی قواعد کے خلاف ہونا۔ (مثلاً: ضمیر کا ذکر ایسے اسم کے بعد لانا جو ابھی ذکر ہی نہیں ہوا)۔
  2. تنافرِ کلمات: ایسے حروف یا الفاظ کا اکٹھا ہونا جن کی وجہ سے زبان لڑکھڑائے۔ (مثلاً: “وقبرُ حربٍ بمکانٍ قفرٍ”)۔
  3. تعقید: کلام کے معنی کا الجھا ہوا ہونا کہ سننے والا سمجھ نہ سکے۔ اس کی دو اقسام ہیں: تعقیدِ لفظی (الفاظ کی ترتیب کی خرابی) اور تعقیدِ معنوی (استعارات کا دور از کار ہونا)۔

سوال نمبر 4: “تشبیہ” کے ارکان کتنے ہیں؟ “تشبیہِ بلیغ” کی تعریف کریں اور اس کی ایک مثال پیش کریں۔
جواب: 1۔ ارکانِ تشبیہ (چار ہیں):
  1. مشہ: جس چیز کو تشبیہ دی جائے۔
  2. مشہ بہ: جس چیز سے تشبیہ دی جائے۔
  3. وجہِ شبہ: وہ صفت جو دونوں میں مشترک ہو۔
  4. حرفِ تشبیہ: وہ لفظ جو تشبیہ کے لیے استعمال ہو (جیسے: کاف، کأن وغیرہ)۔
2۔ تشبیہِ بلیغ: وہ تشبیہ جس میں سے “حرفِ تشبیہ” اور “وجہِ شبہ” دونوں کو حذف کر دیا جائے تاکہ مبالغہ پیدا ہو۔
  • مثال: “زَيْدٌ أَسَدٌ” (زید شیر ہے)۔ یہاں “شیر کی طرح” (حرف) اور “بہادری میں” (وجہ) کو حذف کر دیا گیا ہے تاکہ یہ ثابت ہو کہ زید عین شیر ہے۔

الورقۃ السادسة: العقائد والمنطق (عقائد و منطق)

وقت: 3 گھنٹے | کل نمبر: 100 نوٹ: ہر حصہ سے دو دو سوالات کے تفصیلی جوابات تحریر کریں۔

حصہ اول: العقائد (شرح العقائد النسفیہ)

سوال نمبر 1: “عذابِ قبر” اور “حیاتِ انبیاء” کے برحق ہونے پر عقلی و نقلی دلائل تفصیلاً تحریر کریں۔
جواب: 1۔ عذابِ قبر (نقلی دلیل): اہلِ سنت و جماعت کا عقیدہ ہے کہ قبر کا عذاب اور راحت حق ہے۔ قرآن میں ارشاد ہے: “اَلنَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا” (آلِ فرعون کو صبح و شام آگ پر پیش کیا جاتا ہے)۔ یہ پیشی موت کے بعد اور قیامت سے پہلے یعنی عالمِ برزخ میں ہے۔ عقلی دلیل: جس طرح انسان خواب میں تکلیف یا راحت محسوس کرتا ہے اور پاس بیٹھے شخص کو پتہ نہیں چلتا، اسی طرح قبر میں مردہ راحت یا تکلیف محسوس کرتا ہے جو ہمیں نظر نہیں آتی۔
2۔ حیاتِ انبیاء: انبیاءِ کرام اپنی قبروں میں ویسے ہی زندہ ہیں جیسے دنیا میں تھے، بلکہ ان کی حیاتِ برزخی شہداء سے بھی اعلیٰ ہے۔ حدیثِ مبارکہ ہے: “اَلْاَنْبِيَاءُ اَحْيَاءٌ فِي قُبُورِهِمْ يُصَلُّونَ” (انبیاء اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور نمازیں پڑھتے ہیں)۔

سوال نمبر 2: “توسل” کی تعریف کریں اور “توسل بالاشخاص” (نبی یا ولی کے وسیلے) کے جواز پر قرآن و حدیث سے استدلال کریں۔
جواب: 1۔ تعریف: دعا میں کسی ایسی چیز یا ہستی کا واسطہ دینا جس کی اللہ کے ہاں قدر و منزلت ہو تاکہ دعا قبول ہو، توسل کہلاتا ہے۔ 2۔ دلائل:
  • قرآنی دلیل:وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ” (اللہ کی طرف وسیلہ تلاش کرو)۔ یہاں وسیلہ سے مراد اعمالِ صالحہ اور وہ ہستیاں بھی ہیں جو اللہ کی مقرب ہیں۔
  • حدیثی دلیل: حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ سے مروہ حدیثِ نابینا جس میں آپ ﷺ نے اسے اپنی ذات کا وسیلہ دے کر دعا سکھائی۔
  • اجماعِ صحابہ: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قحط کے وقت حضور ﷺ کے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ کا وسیلہ پیش کر کے بارش کی دعا مانگی۔

حصہ دوم: المنطق (القطبی)

سوال نمبر 3: “تصور” اور “تصدیق” کی مکمل تعریف کریں، ان کی اقسام (بدیہی و نظری) بیان کریں اور تصدیق کی تعریف میں “قدماء” اور “متاخرین” کا اختلاف واضح کریں۔
جواب: 1۔ تصور و تصدیق:
  • تصور: کسی چیز کا سادہ ادراک، جس میں حکم نہ ہو (مثلاً: انسان)۔
  • تصدیق: دو چیزوں کے درمیان نسبت کا ایسا ادراک جس میں وقوع یا لا وقوع کا حکم ہو (مثلاً: زید عالم ہے)۔
2۔ بدیہی و نظری:
  • بدیہی: جس کے سمجھنے میں سوچ بچار کی ضرورت نہ ہو (مثلاً: آگ گرم ہے)۔
  • نظری: جس میں غور و فکر کی ضرورت ہو (مثلاً: روح کی حقیقت)۔
3۔ ائمہ کا اختلاف (سب سے اہم مسئلہ):
  • قدماء (فارابی وغیرہ): ان کے نزدیک تصدیق صرف “حکم” کا نام ہے، باقی تین تصورات اس کے لیے شرط ہیں۔
  • متاخرین (امام رازیؒ): ان کے نزدیک تصدیق چاروں اجزاء (محکوم علیہ، محکوم بہ، نسبت اور حکم) کے مجموعے کا نام ہے۔

سوال نمبر 4: “کُلیاتِ خمسہ” سے کیا مراد ہے؟ پانچوں کلیات کی تعریف مع امثلہ تحریر کریں۔
جواب: علمِ منطق میں تعریف (حد و رسم) کے لیے پانچ کلیات بنیاد ہیں:
  1. جنس: وہ کلی جو ایسی حقیقتوں پر بولی جائے جن کی حقیقتیں مختلف ہوں (مثلاً: حیوان – جو انسان اور گھوڑے دونوں پر بولا جاتا ہے)۔
  2. نوع: جو ایسی حقیقتوں پر بولی جائے جن کی حقیقتیں ایک ہوں (مثلاً: انسان)۔
  3. فصل: وہ کلی جو کسی چیز کو اس کی جنس سے الگ کرے (مثلاً: ناطق – جو انسان کو دیگر حیوانات سے الگ کرتی ہے)۔
  4. خاصہ: وہ صفت جو صرف ایک ہی حقیقت میں پائی جائے (مثلاً: ہنسنا – جو صرف انسان کا خاصہ ہے)۔
  5. عرضِ عام: وہ صفت جو اپنی حقیقت کے علاوہ دوسری حقیقتوں میں بھی پائی جائے (مثلاً: چلنا پھرنا یا سانس لینا – جو انسان اور دیگر جانوروں میں مشترک ہے)۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *