Tanzeem ul Madaris Solved Guess Paper 2025 | PDF (طلباء کے لیے) خاصه سال دوم

خاصہ سال دوم –  (پہلا پرچہ: قرآن مجید)

سوال نمبر 1: (الف) کلامِ باری و کلامِ مفسر پر اعراب لگا کر ترجمہ کریں:
وَعِبَادُ الرَّحْمَنِ مُبْتَدَأٌ وَمَا بَعْدَهُ صِفَاتٌ لَهُ إِلَى أُولَئِكَ يُجْزَوْنَ غَيْرَ الْمُعْتَرَضِ فِيهِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا أَيْ بِسَكِينَةٍ وَتَوَاضُعٍ وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ بِمَا يَكْرَهُونَهُ قَالُوا سَلَامًا أَيْ قَوْلًا يَسْلَمُونَ فِيهِ مِنَ الْإِثْمِ
جواب: ترجمہ: اور “عبادُ الرحمن” (الرحمن کے بندے) مبتدا ہے اور اس کے بعد والی آیات اس کی صفات ہیں یہاں تک کہ “أُولَئِكَ يُجْزَوْنَ” (ان کو جزا دی جائے گی) تک، (وہ بندے) جو زمین پر عاجزی سے چلتے ہیں یعنی سکون اور انکساری کے ساتھ، اور جب جاہل ان سے ایسی بات کریں جو انہیں ناپسند ہو تو وہ سلام کہتے ہیں یعنی ایسی بات کہتے ہیں جس میں وہ گناہ سے محفوظ رہیں۔
سوال نمبر 1: (ب) عباد الرحمن کی عبارت میں مذکور صفات کے علاوہ دیگر صفات میں سے کوئی چار صفات تفصیل سے تحریر کریں۔
جواب: وہ اپنی راتیں اپنے رب کے حضور سجدے اور قیام (تہجد) میں گزارتے ہیں۔ وہ دعا کرتے ہیں کہ اے رب! ہم سے جہنم کا عذاب پھیر دے، بے شک اس کا عذاب چمٹ جانے والا ہے۔ وہ خرچ کرتے وقت نہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ ہی کنجوسی، بلکہ اعتدال اختیار کرتے ہیں۔ وہ اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے اور نہ ہی کسی نفس کو ناحق قتل کرتے ہیں۔
سوال نمبر 1: (ج) اللہ کے نیک بندوں کی پسندیدہ چال کی توضیح کریں۔
جواب: قرآنِ پاک نے نیک بندوں کی چال کو “ہوناً” کہا ہے، جس سے مراد یہ ہے کہ وہ زمین پر وقار، سکون اور عاجزی کے ساتھ چلتے ہیں۔ ان کی چال میں تکبر، اکڑ یا بناوٹ نہیں ہوتی بلکہ ان کے قدموں سے ان کی باطنی فروتنی اور اللہ کا خوف ظاہر ہوتا ہے۔

سوال نمبر 2: (الف) کلامِ باری تعالیٰ اور کلامِ مفسر پر اعراب لگا کر ترجمہ کریں۔
وَلَقَدْ آتَيْنَا لُقْمَانَ الْحِكْمَةَ مِنْهَا الْعِلْمُ وَالدِّيَانَةُ وَالْإِصَابَةُ فِي الْقَوْلِ وَحِكْمَةً كَثِيرَةً مَأْثُورَةً كَانَ يُفْتِي قَبْلَ بَعْثِ دَاوُدَ وَأَدْرَكَ زَمَنَهُ وَأَخَذَ مِنْهُ الْعِلْمَ وَتَرَكَ الْفُتْيَا وَقَالَ فِي ذَلِكَ أَلَا أَكْتَفِي إِذَا كُفِيتُ وَقِيلَ لَهُ أَيُّ النَّاسِ شَرٌّ قَالَ الَّذِي لَا يُبَالِي أَنْ رَآهُ النَّاسُ مُسِيئًا
جواب: ترجمہ: اور بے شک ہم نے لقمان کو حکمت عطا کی (جس سے مراد علم، دینداری اور بات میں درستی ہے) اور بہت سی منقول حکمتیں (عطا کیں۔ وہ حضرت داؤد علیہ السلام کی بعثت سے پہلے فتویٰ دیا کرتے تھے، پھر آپ کا زمانہ پایا، آپ سے علم حاصل کیا اور فتویٰ دینا چھوڑ دیا۔ انہوں نے اس بارے میں کہا: کیا میں کافی نہ سمجھوں جب میری طرف سے کفایت کر لی گئی؟ اور ان سے پوچھا گیا کہ کون سا آدمی سب سے برا ہے؟ انہوں نے فرمایا: وہ جو اس بات کی پرواہ نہ کرے کہ لوگ اسے برا کام کرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔
سوال نمبر 2: (ب) حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو کیا وصیتیں کیں؟
جواب: حضرت لقمان کی مشہور وصیتیں یہ ہیں: اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا۔ نماز قائم کرنا۔ نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا۔ تکلیف پر صبر کرنا۔ لوگوں سے رخ پھیر کر (تکبر سے) بات نہ کرنا۔ زمین پر اکڑ کر نہ چلنا اور اپنی آواز کو پست رکھنا۔

سوال نمبر 3: (الف) کلامِ ربانی اور کلامِ مفسر کا ترجمہ کریں۔
إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَاءَ إِذَا (بِتَحْقِيقِ الْهَمْزَتَيْنِ وَتَسْهِيلِ الثَّانِيَةِ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْيَاءِ) وَلَّوْا مُدْبِرِينَ
جواب: ترجمہ: بے شک آپ (ﷺ) مردوں کو نہیں سناتے اور نہ ہی بہروں کو پکار سناتے ہیں جب (یہاں دو ہمزوں کی تحقیق اور دوسرے کی تسہیل یائے کے ساتھ ہے) وہ پیٹھ پھیر کر مڑ جائیں۔
مختصر سوالات
س 1: بلقیس کا تخت حاضر کرنے والے کون تھے اور تخت کی کیفیت کیا تھی؟
ج: بلقیس کا تخت حضرت آصف بن برخیا نے حاضر کیا تھا جن کے پاس کتاب کا علم تھا۔ وہ تخت سونے اور قیمتی جواہرات سے مزین اور نہایت عالیشان تھا۔
س 2: عنکبوت کا معنی کیا ہے؟
ج: عنکبوت عربی زبان کا لفظ ہے جس کا اردو معنی ‘مکڑی’ ہے۔
س 4: بغیر چھونے (قبل ان تمسوہن) طلاق ہو جائے تو عدت کا کیا حکم ہے؟
ج: اگر نکاح کے بعد خلوتِ صحیحہ یا جماع سے پہلے طلاق ہو جائے تو عورت پر کوئی عدت نہیں ہے۔
س 5: غزوہ اور سریہ میں کیا فرق ہے؟
ج: غزوہ اس جنگ کو کہتے ہیں جس میں نبی کریم ﷺ نے بذاتِ خود شرکت فرمائی ہو، جبکہ سریہ اس لشکر کو کہتے ہیں جسے نبی کریم ﷺ نے روانہ فرمایا ہو لیکن خود اس میں شریک نہ ہوئے ہوں۔

خاصہ سال دوم –  (دوسرا پرچہ: حدیث و عربی ادب)

قسم اول: حدیثِ مبارکہ
سوال نمبر 1: (الف) حدیثِ مذکور پر اعراب لگا کر ترجمہ کریں۔
عَنْ يَزِيدَ قَالَ: كُنْتُ أَرَى رَأْيَ الْخَوَارِجِ فَسَأَلْتُ بَعْضَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ فَأَخْبَرَنِي أَنَّ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ بِخِلَافِ مَا كُنْتُ أَقُولُ فَأَنْقَذَنِي اللهُ تَعَالَى بِهِ.
جواب: ترجمہ: حضرت یزید (الرِّشک) سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں خارجیوں کی رائے (نظریہ) رکھتا تھا، پھر میں نے نبی ﷺ کے بعض صحابہ سے سوال کیا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ نبی ﷺ نے میری بات کے خلاف فرمایا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے مجھے اس (صحابی کی بتائی ہوئی بات) کے ذریعے (گمراہی سے) بچا لیا۔
سوال نمبر 1: (ب) حدیثِ مذکور کی تشریح کریں نیز خارجی، رافضی اور ناصبی کی تعریف کریں۔
جواب: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر انسان کسی غلط نظریے یا وسوسے میں مبتلا ہو جائے تو اسے اہلِ علم اور صحابہ کرام کے آثار کی طرف رجوع کرنا چاہیے، کیونکہ حق وہی ہے جو اللہ کے رسول ﷺ نے بیان فرمایا۔
خارجی: وہ گروہ جو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کی تکفیر کرتا ہے اور گناہِ کبیرہ کی وجہ سے ایمان سے خروج کا قائل ہے۔
رافضی: وہ گروہ جو صحابہ کرام (خصوصاً خلفائے ثلاثہ) کی شان میں گستاخی کرتا ہے اور انہیں غاصب سمجھتا ہے۔
ناصبی: وہ گروہ جو اہلِ بیتِ اطہار (خصوصاً حضرت علی رضی اللہ عنہ) سے بغض و عداوت رکھتا ہے اور ان کی توہین کرتا ہے۔

سوال نمبر 2: قرات خلف الامام کے بارے میں اختلافِ ائمہ مع الدلائل اور موقفِ احناف کی وجہ ترجیح لکھیں۔
امام شافعی کے نزدیک مقتدی پر سورہ فاتحہ پڑھنا فرض ہے، چاہے نماز جہری ہو یا سری۔ ان کی دلیل حدیث ہے: “اس شخص کی نماز نہیں جس نے فاتحہ نہ پڑھی”۔
امام مالک اور امام احمد کے نزدیک سری نمازوں میں قرات مستحب ہے اور جہری میں خاموش رہنا واجب ہے۔
احناف کے نزدیک مقتدی پر قرات مطلقاً حرام (مکروہِ تحریمی) ہے، چاہے نماز جہری ہو یا سری۔ احناف کی وجہِ ترجیح یہ ہے کہ قرآن میں حکم ہے: “جب قرآن پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سنو اور خاموش رہو”۔ نیز مذکورہ حدیث “امام کی قرات مقتدی کی ہی قرات ہے” احناف کے موقف کی واضح تائید کرتی ہے۔
سوال نمبر 3: (الف) امام ابوحنیفہ اور امام اوزاعی کے درمیان رفع یدین پر کیا مکالمہ ہوا؟ توضیح کریں۔
جواب: امام اوزاعی نے امام صاحب سے کہا کہ آپ رکوع میں جاتے اور اٹھتے وقت رفع یدین کیوں نہیں کرتے؟ پھر اپنی سند سے حدیث پیش کی۔
امام ابوحنیفہ نے جواب میں اپنی سند (حماد، ابراہیم، علقمہ) سے حضرت عبداللہ بن مسعود کی حدیث پیش کی کہ نبی ﷺ صرف شروع میں ہاتھ اٹھاتے تھے۔
جب امام اوزاعی نے اپنی سند کو عالی (مختصر) کہا تو امام صاحب نے جواب دیا کہ میری سند کے راوی فقہ میں آپ کے راویوں سے زیادہ ماہر ہیں۔ اس دلیل پر امام اوزاعی خاموش ہو گئے۔

قسم ثانی: عربی ادب

سوال نمبر 4: درج ذیل اشعار میں سے پانچ کا ترجمہ کریں۔
جواب:
  1. میں کئی پہرے داروں اور ایسے گروہ سے بچ کر اس (محبوبہ) تک پہنچا جو میرے قتل کے حریص تھے اور اسے چھپائے ہوئے تھے۔
  2. میں نے اس کے سر کو اپنی طرف جھکایا تو وہ مجھ پر جھک گئی، وہ پتلی کمر والی اور بھری ہوئی پنڈلیوں والی ہے۔
  3. اور اس کے بال (محبوبہ کے) پیٹھ کو زینت دیتے ہیں، وہ سیاہ فام، گھنے اور کھجور کے خوشے کی طرح گتھے ہوئے ہیں۔
  4. اے لمبی رات! کیا تو صبح کے ساتھ روشن نہیں ہوگی؟ حالانکہ تیری صبح بھی تجھ سے کچھ بہتر نہیں ہے۔
  5. اور وہ (محبوبہ) تبسم کرتی ہے تو صاف چمکتے دانت ظاہر ہوتے ہیں گویا وہ ریت کے ٹیلے پر کھلی ہوئی چنبیلی ہو۔

سوال نمبر 5: درج ذیل جموع میں سے پانچ کے مفردات و معانی تحریر کریں۔
نجوم (مفرد: نَجْم) – معنی: ستارے الواح (مفرد: لَوْح) – معنی: تختیاں أطلال (مفرد: طَلَل) – معنی: کھنڈرات/نشاناتِ منزل عذاری (مفرد: عَذْرَاء) – معنی: کنواری لڑکیاں سباع (مفرد: سَبُع) – معنی: درندے

کلاس: الشہادۃ الثانویہ الخاصہ (ایف اے سال دوم) تیسرا پرچہ: فقہ

سوال نمبر 1: (الف) مذکورہ عبارت “والمفروض في مسح الرأس…” کے تحت ہدایہ میں بیان کیے گئے اختلافِ ائمہ کو مع الدلائل بیان کریں۔
جواب: سر کے مسح کی مقدار میں ائمہ کا اختلاف درج ذیل ہے:
امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک پیشانی کی مقدار یعنی چوتھائی سر کا مسح فرض ہے، ان کی دلیل حضرت مغیرہ بن شعبہ کی روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اپنی پیشانی (ناصیہ) پر مسح فرمایا۔ امام شافعی کے نزدیک سر کے مسح کی کم از کم مقدار تین بال ہیں، کیونکہ آیت میں “بِـرُؤُوسِكُمْ” میں ‘ب’ تبعیض (حصر) کے لیے ہے۔
مام مالک کے نزدیک پورے سر کا مسح فرض ہے، ان کی دلیل آیت کا ظاہری حکم ہے کہ سر کا مسح کرو، جس سے مراد پورا سر ہے۔
سوال نمبر 1: (ب) “والمرفقان والكعبان يدخلان في الغسل” مذکورہ مسئلہ میں اختلافِ ائمہ بالتفصیل لکھیں۔
جواب: وضو میں کہنیوں اور ٹخنوں کو دھونے میں شامل کرنے کے متعلق فقہاء کی آراء یہ ہیں: ا
مام ابوحنیفہ، امام شافعی اور امام مالک کے نزدیک کہنیاں اور ٹخنے دھونے میں داخل ہیں اور انہیں دھونا فرض ہے۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ آیت میں موجود حرفِ غایت “الیٰ” (تک) یہاں “مع” (ساتھ) کے معنی میں ہے، جیسے قرآن میں “إِلَىٰ أَمْوَالِكُمْ” کا معنی اپنے مالوں کے ساتھ ہے۔ امام زفر اور داؤد ظاہری کے نزدیک کہنیاں اور ٹخنے دھونے میں داخل نہیں ہیں، کیونکہ غایت (انتہا) مغیا (جس کی انتہا ہو) میں داخل نہیں ہوتی۔
مختصر سوالات
س 1: “المنی نجس یجب غسلہ رطباً” کی کوئی ایک دلیل ذکر کریں؟
ج: اس کی دلیل حضرت عائشہ صدیقہ کی روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے کپڑے سے منی کو دھو ڈالتی تھی، اور دھونا نجاست کی دلیل ہے۔
س 2: نفاس کی تعریف کیا ہے؟
ج: نفاس وہ خون ہے جو بچے کی ولادت کے بعد رحم سے نکلتا ہے۔
س 3: کیا موزوں پر مسح کرنا جائز ہے؟
ج: جی ہاں، موزوں پر مسح کرنا جائز ہے اور اس کا ثبوت متواتر احادیث سے ملتا ہے۔
س 4: عیدین کی تکبیرات میں ہاتھ اٹھانے کا کیا حکم ہے؟
ج: عیدین کی زائد تکبیرات میں ہر تکبیر کے ساتھ ہاتھ کانوں تک اٹھانا واجب ہے۔
س 5: نماز باجماعت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
ج: نماز باجماعت ادا کرنا سنتِ مؤکدہ ہے جو کہ شعائرِ اسلام میں سے ہے۔

خاصہ سال دوم –  (چوتھا پرچہ: اصولِ فقہ)

سوال نمبر 1: (الف) عبارت پر اعراب لگا کر ترجمہ تحریر کریں۔
إِنَّ أُصُولَ الشَّرْعِ ثَلَاثَةٌ: الْكِتَابُ وَالسُّنَّةُ وَإِجْمَاعُ الْأُمَّةِ (بَدَلٌ مِنْ ثَلَاثَةٍ أَوْ بَيَانٌ لَهُ) وَالْمُرَادُ مِنَ الْكِتَابِ بَعْضُ الْكِتَابِ وَهُوَ مِقْدَارُ خَمْسِ مِائَةِ آيَةٍ لِأَنَّهُ أَصْلُ الشَّرْعِ وَالْبَاقِي قِصَصٌ وَنَحْوُهَا وَهَكَذَا الْمُرَادُ مِنَ السُّنَّةِ بَعْضُهَا وَهُوَ مِقْدَارُ ثَلَاثَةِ آلَافٍ عَلَى مَا قَالُوا.
جواب: ترجمہ: بے شک اصولِ شرع تین ہیں: کتاب اللہ، سنت اور اجماعِ امت (یہ ‘تین’ سے بدل یا اس کا بیان ہے)۔ اور کتاب سے مراد کتاب کا وہ حصہ ہے جو (احکام کے متعلق) تقریباً پانچ سو آیات کی مقدار ہے، کیونکہ یہی اصلِ شرع ہے اور باقی قصے اور اس جیسی دیگر چیزیں ہیں۔ اسی طرح سنت سے مراد اس کا بعض حصہ ہے اور وہ قول کے مطابق تقریباً تین ہزار احادیث کی مقدار ہے۔
سوال نمبر 1: (ب) اجماع سے مراد کن کن کا اجماع ہے؟ نیز قیاس کو الگ ذکر کرنے کی وجہ بیان کریں۔
جواب: اجماع سے مراد نبی کریم ﷺ کی امت کے مجتہدین کا کسی شرعی معاملے پر متفق ہو جانا ہے۔ اس میں صرف علماء اور مجتہدین کا اعتبار ہوتا ہے، عام عوام کا نہیں۔ مصنف نے “والاصل الرابع القیاس” کہہ کر قیاس کو الگ اس لیے ذکر کیا کیونکہ پہلے تین اصول (کتاب، سنت، اجماع) دلائلِ قطعیہ اور مستقل اصول ہیں جن سے حکم براہِ راست ثابت ہوتا ہے، جبکہ قیاس ان تینوں سے نکالا گیا ایک فرعی اصل ہے جو حکم کو ظاہر کرتا ہے، پیدا نہیں کرتا۔
سوال نمبر 2: عبارت (واما المحكم فما احكم المرادبه…) پر اعراب لگا کر ترجمہ تحریر کریں۔
وَأَمَّا الْمُحْكَمُ فَمَا أُحْكِمَ الْمُرَادُ بِهِ عَنِ احْتِمَالِ النَّسْخِ وَالتَّبْدِيلِ تَعْدِيَةُ “عَنْ” هَهُنَا بِتَضْمِينِ مَعْنَى الِامْتِنَاعِ أَيْ أُحْكِمَ الْمُرَادُ بِهِ حَالَ كَوْنِهِ مُمْتَنِعًا عَنِ احْتِمَالِ النَّسْخِ وَالتَّبْدِيلِ
ترجمہ: اور رہا “محکم” تو یہ وہ (لفظ) ہے جس کے معنی کو نسخ اور تبدیلی کے احتمال سے پختہ کر دیا گیا ہو۔ یہاں “عن” کا صلہ لانا “امتناع” (رک جانے) کے معنی کو شامل کرنے کے لیے ہے، یعنی اس کے معنی کو اس حال میں پختہ کیا گیا کہ وہ نسخ اور تبدیلی کے احتمال سے رکا ہوا (ناممکن) ہے۔
سوال نمبر 2: وأحل الله البيع وحرم الربوا آیت مبارکہ میں ظاہر و نص کی تعین سپردِ قلم کریں۔
اس آیت میں “ظاہر” بیع (خرید و فروخت) کا حلال ہونا اور سود کا حرام ہونا ہے، کیونکہ کلام کا لفظی مفہوم یہی سمجھ آ رہا ہے۔
اس میں “نص” بیع اور سود کے درمیان فرق کو واضح کرنا ہے، کیونکہ یہ آیت ان کفار کے رد میں نازل ہوئی جو کہتے تھے کہ “بیع بھی تو سود کی طرح ہے”، پس اللہ نے ان کے درمیان فرق بیان کرنے کے لیے یہ کلام فرمایا۔

مختصر سوالات
س 1: لامِ تعریف کا داخل ہونا اسم کا خاصہ کیوں ہے؟
ج: کیونکہ لامِ تعریف کسی معین حقیقت کو ظاہر کرنے کے لیے آتا ہے اور یہ معنی صرف اسم میں پائے جاتے ہیں، یہ خاصہ “غیر شامل” (صرف اسم کے لیے مخصوص) ہے۔
س 2: اضافت سے کیا مراد ہے اور یہ اسم کا خاصہ کیوں ہے؟
ج: اضافت سے مراد ایک اسم کی دوسرے اسم کی طرف نسبت کرنا ہے۔ یہ اسم کا خاصہ اس لیے ہے کہ اضافت کے لیے مضاف اور مضاف الیہ دونوں کا اسم ہونا ضروری ہے۔
س 3: اسبابِ منعِ صرف کتنے اور کون کون سے ہیں؟
ج: اسبابِ منعِ صرف نو (9) ہیں: عدل، وصف، تانیث، معرفہ (عجمہ)، عبقر (جمع)، ترکیب، الف و نون زائدتان اور وزنِ فعل۔ (تعداد میں اختلاف یہ ہے کہ بعض صرف دو بڑے اسباب مانتے ہیں جو ان نو کو شامل ہوں)۔
س 4: علم (Proper Noun) کو نکرہ بنانے کا طریقہ کیا ہے؟
ج: جب کسی علم (مثلاً زید) سے اس نام کے بہت سے افراد مراد لے لیے جائیں تو وہ نکرہ بن جاتا ہے، جیسے “عندی زیدون” (میرے پاس بہت سے زید ہیں)۔
س 5: “ہذا القول” سے کیا مراد ہے؟
ج: اس سے مراد وہ مشہور قول ہے جس کی وضاحت مصنف کر رہے ہیں، یعنی وزنِ فعل اور الف و نون زائدتان کے متعلق نحویوں کی رائے۔


خاصہ سال دوم – (پانچواں پرچہ: نحو – شرح جامی)

سوال نمبر 1: (الف) اسم، فعل اور حرف کی وجہ تسمیہ شرح جامی کی روشنی میں بیان کریں۔
جواب: اسم: یہ ‘سمو’ سے مشتق ہے جس کا معنی بلندی ہے، چونکہ اسم اپنے دونوں ساتھیوں (فعل اور حرف) پر بلندی رکھتا ہے (کیونکہ یہ مسند اور مسند الیہ دونوں بن سکتا ہے) اس لیے اسے اسم کہتے ہیں۔
فعل: اس کا لغوی معنی کام ہے، چونکہ یہ مصدر (جو کہ اصلِ فعل ہے) کے معنی پر مشتمل ہوتا ہے، اس لیے اسے فعل کہا گیا۔
حرف: اس کا لغوی معنی کنارہ ہے، چونکہ حرف کلام کے کنارے پر واقع ہوتا ہے اور مقصود بالذات نہیں ہوتا بلکہ اسم اور فعل کو جوڑنے کے لیے آتا ہے، اس لیے اسے حرف کہتے ہیں۔
سوال نمبر 1: (ب) کلمہ کو کلام پر کیوں مقدم کیا جاتا ہے؟ حالانکہ کلام میں افادہ زیادہ ہے۔
جواب: کلمہ مفرد ہے اور کلام مرکب ہے۔
قاعدہ یہ ہے کہ مفرد جز ہوتا ہے اور مرکب کل ہوتا ہے۔ چونکہ جز کا علم کل کے علم پر مقدم ہوتا ہے (یعنی پہلے اینٹ کا علم ہوگا پھر دیوار کا)، اس لیے کلمہ کو کلام پر مقدم کیا گیا ہے، اگرچہ کلام میں فائدہ زیادہ ہے۔

وَلَا يَتَأَتَّى أَيْ لَا يَحْصُلُ ذَلِكَ أَيْ الْكَلَامُ إِلَّا فِي ضِمْنِ اسْمَيْنِ أَحَدُهُمَا مُسْنَدٌ وَالْآخَرُ مُسْنَدٌ إِلَيْهِ اور کلام حاصل نہیں ہوتا مگر دو اسموں کے ضمن میں کہ ان میں سے ایک مسند اور دوسرا مسند الیہ ہو۔
کلام کی تعریف کریں نیز کلام بننے کی عقلی صورتیں مع امثلہ لکھیں۔
کلام وہ ہے جو دو کلموں کی ایسی نسبت پر مشتمل ہو کہ سننے والے کو پورا فائدہ حاصل ہو؛
اس کی عقلی صورتیں 6 ہیں: (1) اسم + اسم (درست: زیدٌ قائمٌ) (2) اسم + فعل (درست: قامَ زیدٌ) (3) فعل + فعل (غلط) (4) فعل + حرف (غلط) (5) اسم + حرف (غلط) (6) حرف + حرف (غلط)۔
“لایتاتی” کی صرفی تحقیق کریں۔
یہ فعل مضارع منفی، واحد مذکر غائب، باب تفعل (تأتی) سے ہے، اس کا مادہ “ا ت ی” (مہموز الفا اور ناقصِ یائی) ہے۔

مختصر سوالات
س : لامِ تعریف کا داخل ہونا اسم کا خاصہ کیوں ہے؟
ج: کیونکہ لامِ تعریف کسی معین حقیقت کو ظاہر کرنے کے لیے آتا ہے اور یہ معنی صرف اسم میں پائے جاتے ہیں، یہ خاصہ “غیر شامل” (صرف اسم کے لیے مخصوص) ہے۔
س : اضافت سے کیا مراد ہے اور یہ اسم کا خاصہ کیوں ہے؟
ج: اضافت سے مراد ایک اسم کی دوسرے اسم کی طرف نسبت کرنا ہے۔ یہ اسم کا خاصہ اس لیے ہے کہ اضافت کے لیے مضاف اور مضاف الیہ دونوں کا اسم ہونا ضروری ہے۔
س : اسبابِ منعِ صرف کتنے اور کون کون سے ہیں؟
ج: اسبابِ منعِ صرف نو (9) ہیں: عدل، وصف، تانیث، معرفہ (عجمہ)، عبقر (جمع)، ترکیب، الف و نون زائدتان اور وزنِ فعل۔ (تعداد میں اختلاف یہ ہے کہ بعض صرف دو بڑے اسباب مانتے ہیں جو ان نو کو شامل ہوں)۔
اسبابِ منعِ صرف شعر کی صورت میں لکھیں۔
عدل و وصف و تانیث و معرفہ / عجمہ و جمع و ترکیب و وزنِ فعل و نون و الف زائدتان۔
غیر منصرف پر کسرہ اور تنوین کیوں نہیں آتے؟
غیر منصرف فعل کے مشابہ ہوتا ہے، اور چونکہ فعل پر کسرہ اور تنوین نہیں آتے، اس لیے غیر منصرف پر بھی یہ دونوں نہیں آتے

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *