Tanzeem ul Madaris Solved Guess Paper 2026 | PDF (طلباء کے لیے) عالمیہ سال دوم
حل شدہ پرچہ اول: صحیح بخاری (عالمیہ سال دوم)
سوال نمبر 1: مسئلہ قراءت اور امامت (معاذ بن جبلؓ کا واقعہ)
سوال: حضرت معاذ بن جبلؓ نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے تھے، پھر اپنی قوم کی امامت کرواتے تھے۔ ایک بار انہوں نے عشاء میں لمبی سورت پڑھی تو ایک شخص نماز چھوڑ کر الگ ہو گیا۔ اس واقعے کی روشنی میں بتائیں کہ کیا فرض پڑھنے والا نفل پڑھنے والے کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہے؟ احناف اور شوافع کے دلائل اور احناف کی طرف سے دیے گئے جوابات تفصیل سے لکھیں۔ نیز طوالِ مفصل، اوسطِ مفصل اور قصارِ مفصل کی حدود بیان کریں۔
جواب:
-
واقعہ کا پس منظر: حضرت معاذ بن جبلؓ مسجدِ نبوی میں حضور ﷺ کے پیچھے عشاء ادا کرتے (جو ان کا فرض ہوتا) پھر اپنے محلے میں جا کر لوگوں کو وہی نماز پڑھاتے (جو معاذؓ کے لیے نفل اور مقتدیوں کے لیے فرض ہوتی)۔
-
فقہی اختلاف: * شوافع کا موقف: نفل پڑھنے والے کے پیچھے فرض پڑھنے والے کی نماز جائز ہے۔ ان کی سب سے بڑی دلیل یہی حضرت معاذؓ کی حدیث ہے۔
-
احناف کا موقف: نفل پڑھنے والے کے پیچھے فرض پڑھنے والے کی نماز جائز نہیں ہے۔ احناف کا قاعدہ ہے کہ “مقتدی کا حال اپنے امام سے قوی یا برابر ہونا چاہیے”۔ نفل ضعیف ہے اور فرض قوی، لہٰذا ضعیف قوی کا ضامن نہیں بن سکتا۔
-
-
احناف کے جوابات: * حضور ﷺ نے فرمایا: “انما جعل الامام لیتم بہ” (امام بنایا ہی اس لیے گیا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے)۔ احناف کے نزدیک اس میں نیت کی پیروی بھی شامل ہے۔
-
حضرت معاذؓ کا واقعہ اسلام کے ابتدائی دور کا ہے جب نماز کے احکام ابھی مکمل طور پر واضح نہیں ہوئے تھے، بعد میں نیت کے اتحاد کو ضروری قرار دیا گیا۔
-
-
حدودِ مفصل: * طوالِ مفصل: سورہ حجرات سے سورہ بروج تک۔ (فجر اور ظہر میں سنت ہے)۔
-
اوسطِ مفصل: سورہ طارق سے سورہ بینہ تک۔ (عصر اور عشاء میں سنت ہے)۔
-
قصارِ مفصل: سورہ زلزال سے سورہ ناس تک۔ (مغرب میں سنت ہے)۔
-
سوال نمبر 2: استسقاء اور توسل
سوال: حدیثِ ابوطالب “وأبيض يستسقى الغمام بوجهه…” کی روشنی میں بتائیں کہ کیا بارش کے لیے نمازِ استسقاء باجماعت پڑھنا سنت ہے؟ اس میں ائمہ کا اختلاف اور راجح قول بیان کریں۔ نیز وصالِ نبوی ﷺ اور وصالِ صالحین کے بعد ان کے وسیلے سے دعا مانگنے (توسل) کا شرعی حکم کیا ہے؟ حضرت عمرؓ کے حضرت عباسؓ کے ذریعے توسل والے واقعے سے استدلال کریں۔
جواب:
-
نمازِ استسقاء کا حکم: * امام ابوحنیفہؒ: ان کے نزدیک استسقاء کے لیے توبہ، استغفار اور دعا کافی ہے، باجماعت نماز مسنونِ مستمرہ نہیں۔
-
صاحبین (امام ابویوسف و محمد) و ائمہ ثلاثہ: ان کے نزدیک باجماعت نماز سنت ہے کیونکہ آپ ﷺ سے ثابت ہے۔ احناف میں فتویٰ صاحبین کے قول پر ہے۔
-
-
توسل کا شرعی حکم: اللہ کی بارگاہ میں انبیاء اور صالحین کا وسیلہ پیش کرنا اہل سنت کے نزدیک بالاجماع جائز ہے۔
-
واقعہ حضرت عمرؓ: مدینہ میں قحط پڑا تو حضرت عمرؓ نے دعا کی: “اے اللہ! ہم پہلے تیرے نبی کا وسیلہ لاتے تھے، اب تیرے نبی کے چچا (حضرت عباسؓ) کا وسیلہ لاتے ہیں، ہمیں بارش عطا کر”۔
-
استدلال: اس سے ثابت ہوا کہ کسی زندہ یا وصال شدہ بزرگ کے تقرب کو اللہ کی بارگاہ میں سفارشی بنانا جائز اور سنتِ صحابہ ہے۔
-
سوال نمبر 3: علاماتِ قیامت اور معجزاتِ نبوی
سوال: رسول اللہ ﷺ نے عدی بن حاتمؓ سے فرمایا تھا کہ “ایک وقت آئے گا کہ ایک عورت حیرہ سے مکہ تک اکیلی سفر کرے گی اور اسے اللہ کے سوا کسی کا خوف نہ ہوگا”۔ اس حدیث کی روشنی میں اسلام کی عالمگیر امن و سلامتی کی پیش گوئی پر بحث کریں۔ نیز قیامت کی وہ نشانیاں لکھیں جو بخاری کی احادیث میں ذکر ہوئی ہیں، خاص طور پر مال کی کثرت اور صدقہ لینے والے کا نہ ملنا۔
جواب:
-
عالمگیر امن کی پیش گوئی: جب عدی بن حاتمؓ مسلمان ہونے آئے تو ہر طرف ڈاکوؤں کا راج تھا۔ آپ ﷺ نے پیش گوئی فرمائی کہ اسلام کا نظام ایسا امن لائے گا کہ ایک عورت تنہا سینکڑوں میل کا سفر کرے گی اور کوئی اسے چھیڑنے والا نہ ہوگا۔ یہ آپ ﷺ کا عظیم معجزہ ہے جو آپ ﷺ کی زندگی میں ہی پورا ہوا۔
-
قیامت کی نشانیاں: * مال کی کثرت: آپ ﷺ نے فرمایا کہ ایک وقت آئے گا کہ انسان سونا چاندی لے کر نکلے گا کہ کوئی اسے صدقہ کے طور پر قبول کر لے، مگر اسے ایسا کوئی محتاج نہ ملے گا جو مال لے۔
-
جہالت کا غلبہ: علم اٹھا لیا جائے گا اور جاہل لوگ مذہبی پیشوا بن جائیں گے۔
-
وقت میں برکت کا ختم ہونا: سال مہینے کی طرح اور مہینہ ہفتے کی طرح گزرے گا۔
-
سوال نمبر 4: زکوٰۃ کے نصاب اور احکام
سوال: زکوٰۃ کب اور کہاں فرض ہوئی؟ سونا، چاندی، اونٹ، گائے اور بکری کا نصابِ زکوٰۃ علیحدہ علیحدہ تفصیل سے لکھیں۔ نیز “رکاز” (زمین سے نکلنے والے دفینے) اور معدنیات میں زکوٰۃ کا کیا حکم ہے؟ کیا ان پر سال گزرنا شرط ہے یا نہیں؟ احناف کے موقف کی وضاحت کریں۔
جواب:
-
فرضیت: زکوٰۃ 2 ہجری میں مدینہ منورہ میں فرض ہوئی۔
-
نصاب (Hanafi Fiqh): * چاندی: 200 درہم (52.5 تولہ یا 612 گرام)۔
-
سونا: 20 دینار (7.5 تولہ یا 87.5 گرام)۔
-
اونٹ: 5 اونٹ ہوں تو 1 بکری۔
-
گائے: 30 گائے ہوں تو 1 سالہ بچھڑا (تبیع)۔
-
بکری: 40 بکریاں ہوں تو 1 بکری۔
-
-
رکاز اور معدنیات: * حکم: احناف کے نزدیک زمین سے نکلنے والے ہر خزانے یا معدنیات (جو آگ میں پگھل سکے) پر خمس (1/5 یعنی 20%) واجب ہے۔
-
شرط: اس میں نہ نصاب کی شرط ہے اور نہ ہی سال گزرنے کی۔ جیسے ہی مال برآمد ہو، اس کا پانچواں حصہ نکالنا فرض ہے۔
-
سوال نمبر 5: امام بخاریؒ کی سوانح اور مقام
سوال: امام محمد بن اسماعیل بخاریؒ کی تاریخِ ولادت، وفات اور ان کے علمی اسفار پر ایک جامع نوٹ لکھیں۔ نیز ان کے اجتہادی مقام پر بحث کریں کہ کیا وہ کسی امام کے مقلد تھے یا مجتہدِ مطلق؟ ان کی کتاب “الجامع الصحيح” کی خصوصیات اور اس کی تراجم الابواب (عنوانات) کی اہمیت بیان کریں۔
جواب:
-
سوانح: امام بخاریؒ 194ھ میں بخارا میں پیدا ہوئے اور 256ھ میں خرتنگ میں وفات پائی۔ آپ نے حدیث کی تلاش میں مکہ، مدینہ، عراق، مصر اور شام کے ہزاروں میل سفر کیے۔
-
اجتہادی مقام: جمہور محدثین کے نزدیک امام بخاریؒ مجتہدِ مطلق تھے، اگرچہ ان کی فقہ میں امام شافعیؒ اور امام احمدؒ سے مماثلت ہے، لیکن وہ اپنے دلائل میں آزاد تھے۔
-
کتاب کی خصوصیات: * آپ نے 16 سال میں یہ کتاب مکمل کی۔
-
ہر حدیث لکھنے سے پہلے غسل کر کے دو رکعت نماز پڑھتے۔
-
تراجم الابواب: بخاری کے عنوانات ان کے اجتہاد کا آئینہ دار ہیں، اسی لیے کہا جاتا ہے کہ “فقه البخاري في تراجمه” (بخاری کی فقہ ان کے ابواب کے عنوانات میں ہے)۔
-
حل شدہ پرچہ دوم: صحیح مسلم (عالمیہ سال دوم)
سوال نمبر 1: طہارت اور نماز میں پیش آمدہ مجبوری
سوال: حضرت ابن مسعودؓ سے مروی اس واقعے کی تفصیل بیان کریں جب ابوجہل کے کہنے پر عقبہ بن ابی معیط نے حالتِ سجدہ میں نبی ﷺ کے کندھوں پر اونٹ کی اوجھڑی (سلا جزور) رکھی تھی۔ اس حدیث کی روشنی میں درج ذیل نکات واضح کریں:
-
نجاست کے باوجود نبی ﷺ نے نماز کیوں جاری رکھی؟ اس کے علمی جوابات لکھیں۔
-
“اشقی القوم” سے کون مراد ہے؟
-
کیا نماز میں نجاست لگ جانے سے نماز باطل ہو جاتی ہے؟ احناف کا موقف بیان کریں۔
جواب:
-
واقعہ کی تفصیل: نبی ﷺ کعبہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے کہ کفار کے اکسانے پر عقبہ بن ابی معیط نے ذبح شدہ اونٹ کی اوجھڑی آپ ﷺ کے سجدے کی حالت میں پشتِ مبارک پر رکھ دی۔ آپ ﷺ سجدے میں رہے یہاں تک کہ سیدہ فاطمہؓ نے آ کر اسے ہٹایا۔
-
نماز جاری رکھنے کی وجوہات:
-
معذوری: آپ ﷺ اس بوجھ کو خود ہٹانے کی قدرت نہیں رکھتے تھے اور کوئی مسلمان وہاں موجود نہ تھا جو مدد کرتا۔ مجبوری کی حالت میں نماز باطل نہیں ہوتی۔
-
تدرجِ احکام: یہ مکی دور تھا، تب تک نجاستِ ثوب (کپڑوں کی ناپاکی) کے متعلق تفصیلی احکام نازل نہیں ہوئے تھے۔
-
-
اشقی القوم: اس سے مراد عقبہ بن ابی معیط ہے جس نے یہ انتہائی بدبختی کا کام کیا۔
-
احناف کا موقف: اگر نماز کے دوران نجاستِ غلیظہ (جیسے خون یا پیشاب) کپڑے پر ایک درہم کی مقدار سے زیادہ لگ جائے تو نماز ٹوٹ جاتی ہے۔ لیکن اگر نمازی معذور ہو یا دشمن کا خوف ہو کہ نماز توڑنے سے جان کا خطرہ ہے، تو وہ اسی حال میں نماز مکمل کر سکتا ہے۔
سوال نمبر 2: نفقہ (خرچہ) اور حقوقِ زوجین
سوال: حضرت ہند بنت عتبہؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اپنے شوہر حضرت ابوسفیانؓ کے بخل کی شکایت کی تھی جس پر آپ ﷺ نے فرمایا: “دستور کے مطابق ان کے مال سے اتنا لے لو جو تمہیں اور تمہارے بچوں کو کافی ہو”۔ اس حدیث کی روشنی میں بتائیں:
-
کیا عورت اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر اس کے مال سے ضرورت کے لیے لے سکتی ہے؟
-
کیا غائب (غیر حاضر شخص) پر قاضی کا فیصلہ نافذ ہوتا ہے؟ احناف اور شوافع کا اختلاف مع دلائل لکھیں۔
جواب:
-
بغیر اجازت لینا: جی ہاں، اگر شوہر بیوی اور بچوں کا ضروری خرچہ (نفقہ) ادا نہ کر رہا ہو، تو بیوی شوہر کی اجازت کے بغیر اس کے مال سے بقدرِ ضرورت لے سکتی ہے۔
-
غائب پر فیصلہ:
-
شوافع و حنابلہ: ان کے نزدیک غائب پر فیصلہ کرنا جائز ہے کیونکہ آپ ﷺ نے ابوسفیانؓ کی غیر موجودگی میں ہندؓ کو اجازت دی۔
-
احناف: ان کے نزدیک غائب پر فیصلہ جائز نہیں ہے۔ وہ اس حدیث کا جواب یہ دیتے ہیں کہ یہ “قضاء” (عدالتی فیصلہ) نہیں تھا بلکہ “فتویٰ” تھا، اور فتویٰ غائب کی موجودگی کے بغیر بھی دیا جا سکتا ہے۔
-
سوال نمبر 3: علم المیراث (کلالہ اور حصص)
سوال: حضرت جابر بن عبداللہؓ کی عیادت کے وقت نازل ہونے والی آیاتِ میراث کا پس منظر بیان کریں۔ نیز “کلالہ” کی لغوی اور شرعی تعریف کریں اور قرآن و حدیث کی روشنی میں بتائیں کہ کلالہ کی صورت میں بہن بھائیوں کا حصہ کتنا ہوتا ہے؟ اولاد کے حصوں (للذكر مثل حظ الأنثيين) کی حکمت بھی بیان کریں۔
جواب:
-
پس منظر: حضرت جابرؓ بیمار ہوئے تو آپ ﷺ ان کی عیادت کو آئے۔ حضرت جابرؓ نے اپنی وراثت کے بارے میں پوچھا تو میراث کی آیات (سورہ نساء) نازل ہوئیں، جن میں کلالہ کا ذکر بھی ہے۔
-
کلالہ کی تعریف: لغوی معنی “احاطہ کرنا”۔ شرعی طور پر کلالہ وہ میت ہے جس کا نہ باپ ہو اور نہ ہی اولاد۔
-
حصص: اگر کلالہ کا ایک بھائی یا ایک بہن ہو تو ہر ایک کو 1/6 (چھٹا حصہ) ملے گا۔ اگر زیادہ ہوں تو وہ 1/3 (تہائی) میں برابر کے شریک ہوں گے۔
-
حکمت: مرد کا حصہ عورت سے دوگنا اس لیے رکھا گیا ہے کیونکہ اسلام میں تمام معاشی ذمہ داریاں (مہر، گھر کا خرچہ، بچوں کی پرورش) مرد پر ڈالی گئی ہیں، جبکہ عورت کا مال اس کا ذاتی ہوتا ہے۔
سوال نمبر 4: فقه البيوع (خیارِ مجلس)
سوال: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “بیچنے والے اور خریدنے والے کو اختیار ہے جب تک وہ جدا نہ ہو جائیں”۔ اس حدیث کی روشنی میں “خیارِ مجلس” کی حقیقت بیان کریں۔ نیز درج ذیل پر بحث کریں:
-
کیا ایجاب و قبول کے بعد بھی سودا منسوخ کرنے کا حق باقی رہتا ہے؟ ائمہ اربعہ کا اختلاف مع دلائل لکھیں۔
-
احناف کے نزدیک “تفرق” (جدا ہونے) سے کیا مراد ہے؟ جسمانی جدائی یا گفتگو کا خاتمہ؟
جواب:
-
خیارِ مجلس: اس سے مراد وہ اختیار ہے جو خریدار اور فروخت کنندہ کو اسی جگہ (مجلس) میں حاصل ہوتا ہے جہاں سودا ہو رہا ہو۔
-
اختلافِ ائمہ:
-
شوافع و حنابلہ: جب تک دونوں جسمانی طور پر اس جگہ سے الگ نہ ہوں، سودا توڑنے کا حق رہتا ہے۔
-
احناف و مالکیہ: جیسے ہی ایجاب و قبول (سودا طے) ہو گیا، اختیار ختم ہو گیا۔ اب دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے کی مرضی کے بغیر سودا نہیں توڑ سکتا۔
-
-
تفرق کی تشریح: احناف کے نزدیک تفرق سے مراد “تفرقِ اقوال” (بات کا ختم ہونا) ہے نہ کہ جسموں کا الگ ہونا۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ اگر جسمانی جدائی مراد لی جائے تو سودا کئی گھنٹوں یا دنوں تک غیر یقینی رہے گا جو تجارت کے لیے نقصان دہ ہے۔
سوال نمبر 5: فتنہ دجال اور علاماتِ قیامت
سوال: صحیح مسلم کی “کتاب الفتن” کی روشنی میں دجال کے خروج، اس کے فتنے کی نوعیت اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا تذکرہ کریں۔ نیز “تمیم داری” کے واقعے کا خلاصہ لکھیں اور بتائیں کہ دجال کن دو شہروں میں داخل نہیں ہو سکے گا؟
جواب:
-
دجال کا فتنہ: دجال زمین پر 40 دن رہے گا، وہ خدائی کا دعویٰ کرے گا اور اس کے پاس باطل جنت و دوزخ ہوگی۔ وہ ایک بہت بڑا فتنہ ہوگا۔
-
تمیم داریؓ کا واقعہ: حضرت تمیم داریؓ ایک جزیرے پر “جساسہ” (جاسوس جانور) اور زنجیروں میں جکڑے ایک شخص (دجال) سے ملے، جس نے آپ ﷺ کی آمد کی خبر سن کر اپنے خروج کا وقت قریب بتایا۔ حضور ﷺ نے اس واقعے کی تصدیق فرمائی۔
-
ممنوعہ شہر: دجال مکہ اور مدینہ میں داخل نہیں ہو سکے گا کیونکہ ان کے راستوں پر فرشتے پہرہ دے رہے ہوں گے۔
-
نزولِ عیسیٰؑ: حضرت عیسیٰ علیہ السلام دمشق کے سفید مینار پر اتریں گے اور دجال کو “بابِ لُد” (فلسطین) پر قتل کریں گے۔
حل شدہ پرچہ سوم: جامع ترمذی (عالمیہ سال دوم)
سوال نمبر 1: بیداری کے بعد طہارت اور امام ترمذیؒ کی اصطلاحات
سوال: حدیثِ مبارکہ “اگر تم میں سے کوئی رات کو بیدار ہو تو اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالے…” کی روشنی میں درج ذیل نکات پر مفصل بحث کریں:
-
شرعی حکم اور علت: اس ممانعت کی اصل وجہ کیا ہے؟ کیا یہ حکم صرف رات کی نیند کے ساتھ خاص ہے یا دن کی نیند پر بھی لاگو ہوتا ہے؟
-
ائمہ کا اختلاف: اگر کوئی شخص ہاتھ دھوئے بغیر برتن میں ہاتھ ڈال دے تو پانی کا کیا حکم ہوگا؟ امام شافعیؒ، امام مالکؒ اور احناف کے موقف کی مدلل وضاحت کریں۔
-
ترمذی کی اصطلاحات: “حدیث حسن صحیح” اور “حدیث غریب” کا فنی مطلب اور فرق واضح کریں۔
جواب:
-
شرعی حکم و علت: حدیث میں حکم ہے کہ نیند سے بیدار ہو کر ہاتھ تین بار دھوئے بغیر برتن میں نہ ڈالا جائے۔ اس کی علت (وجہ) یہ ہے کہ نیند میں انسان کو علم نہیں ہوتا کہ اس کا ہاتھ جسم کے کس حصے (مقامِ نجاست) پر لگا ہے۔
-
رات یا دن: احناف اور جمہور کے نزدیک یہ حکم عام ہے، چاہے نیند رات کی ہو یا دن کی، کیونکہ علت (بے خبری) دونوں میں موجود ہے۔
-
-
ائمہ کا اختلاف:
-
احناف و مالکیہ: ان کے نزدیک یہ حکم استحبابی (بہتر) ہے، وجوبی نہیں۔ اگر کسی نے ہاتھ ڈال دیا تو پانی ناپاک نہیں ہوگا (بشرطیکہ ہاتھ پر نجاست نہ ہو)۔
-
شوافع: امام شافعیؒ کے نزدیک اگر ہاتھ ڈال دیا تو پانی پاک رہے گا مگر ایسا کرنا مکروہ ہے۔
-
حنابلہ: امام احمدؒ کے نزدیک رات کی نیند سے بیدار ہو کر ہاتھ دھونا واجب ہے، اگر دھوئے بغیر ہاتھ ڈالا تو پانی ناپاک (قلیل ہونے کی صورت میں) ہو جائے گا۔
-
-
ترمذی کی اصطلاحات:
-
حسن صحیح: اس سے مراد وہ حدیث ہے جو ایک سند سے “حسن” (راوی کے حافظے میں تھوڑی کمی) اور دوسری سند سے “صحیح” (کامل راوی) ہو۔
-
غریب: وہ حدیث جس کی سند کے کسی بھی مرحلے پر صرف ایک ہی راوی رہ گیا ہو۔
-
سوال نمبر 2: اذان، اقامت اور مسجد کا نظم و ضبط
سوال: حدیثِ مبارکہ “المؤذن املك بالاذان والامام املك بالاقامة” کی روشنی میں درج ذیل سوالات کے جواب دیں:
-
اختیارات کی تقسیم: اذان اور اقامت کے اوقات متعین کرنے کا اختیار کس کے پاس ہے؟
-
انتظارِ امام: کیا امام کی اجازت کے بغیر اقامت کہی جا سکتی ہے؟ نبوی معمول کیا تھا؟
جواب:
-
اختیارات کی تقسیم: حدیث کے مطابق مؤذن اذان کا زیادہ حقدار ہے، یعنی وقت داخل ہوتے ہی اذان دینا مؤذن کا اختیار ہے۔ جبکہ اقامت کا مکمل اختیار امام کے پاس ہے۔
-
انتظارِ امام: مؤذن کے لیے ضروری ہے کہ وہ امام کی آمد یا اشارے کا انتظار کرے۔ جب تک امام مصلے کی طرف نہ آ جائے، اقامت نہ کہی جائے۔
-
نبوی معمول: حضور ﷺ جب حجرہ مبارک سے مسجد میں تشریف لاتے، تب حضرت بلالؓ اقامت شروع فرماتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ امام کی حاضری اقامت کے لیے مقدم ہے۔
-
سوال نمبر 3: وتر کا وجوب، رکعات اور قنوت
سوال: نمازِ وتر کے بارے میں ائمہ کے درمیان اختلاف پر تفصیلی بحث کریں:
-
حکمِ وتر: کیا وتر واجب ہے یا سنتِ مؤکدہ؟ ائمہ کے دلائل۔
-
تعدادِ رکعات: وتر کی کتنی رکعات مسنون ہیں؟
-
دعائے قنوت: رکوع سے پہلے یا بعد میں؟
جواب:
-
حکمِ وتر:
-
احناف: وتر واجب ہے۔ دلیل: حضور ﷺ کا فرمان “الوتر حق، فمن لم یوتر فلیس منا” (وتر حق ہے، جو وتر نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں)۔
-
ائمہ ثلاثہ: یہ سنتِ مؤکدہ ہے۔ دلیل: اعرابی والی حدیث جس میں آپ ﷺ نے پانچ نمازوں کے علاوہ کسی کو فرض قرار نہیں دیا۔
-
-
تعدادِ رکعات:
-
احناف: وتر کی تین رکعات ہیں جو ایک سلام کے ساتھ پڑھی جاتی ہیں۔
-
شوافع: وتر کی ایک، تین، پانچ (غرض گیارہ تک) رکعات ہو سکتی ہیں۔ وہ دو رکعت پر سلام پھیر کر ایک رکعت الگ پڑھنے کو افضل مانتے ہیں۔
-
-
دعائے قنوت:
-
احناف: تیسری رکعت میں رکوع سے پہلے قنوت پڑھنا سنت ہے۔
-
شوافع: رکوع کے بعد (قومہ میں) قنوت پڑھتے ہیں۔
-
سوال نمبر 4: زکوٰۃ اور سوال (مانگنے) کی مذمت
سوال: حدیث “جس نے لوگوں سے مانگا حالانکہ اس کے پاس پچاس درہم موجود ہوں…” کی روشنی میں بحث کریں:
-
استغناء کی حد: وہ کون سا نصاب ہے جس کے بعد مانگنا حرام ہے؟
-
زیورات اور مالِ تجارت کی زکوٰۃ پر احناف کا موقف۔
جواب:
-
استغناء کی حد: حدیث میں 50 درہم (یا ایک اوقیہ چاندی) کی حد بتائی گئی ہے۔ جس کے پاس اتنا مال یا ضرورت سے زائد سامان ہو، اس کے لیے لوگوں سے سوال کرنا حرام ہے۔
-
زیورات و مالِ تجارت:
-
احناف: سونے چاندی کے زیورات پر زکوٰۃ واجب ہے، چاہے وہ استعمال میں ہوں یا نہ ہوں۔ جبکہ دیگر ائمہ استعمالی زیور پر زکوٰۃ واجب نہیں مانتے۔
-
مالِ تجارت: تمام ائمہ کے نزدیک مالِ تجارت پر زکوٰۃ فرض ہے بشرطیکہ وہ نصاب کو پہنچ جائے۔
-
سوال نمبر 5: امام ترمذیؒ اور ان کی جامع کی خصوصیات
سوال: جامع ترمذی کی ان خصوصیات کا ذکر کریں جو اسے دیگر صحاحِ ستہ سے ممتاز کرتی ہیں۔
جواب:
-
مذاہبِ فقہاء: امام ترمذی حدیث کے بعد “وفیہ عن فلان وفلان” کہہ کر دیگر صحابہ کی روایات کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور ائمہ (شافعی، احمد، اسحاق وغیرہ) کے فقہی مذاہب بیان کرتے ہیں۔
-
عللِ حدیث: وہ ہر حدیث پر جرح و تعدیل کرتے ہیں (مثلاً: ہذا حدیث حسن صحیح) جس سے حدیث کا درجہ معلوم ہو جاتا ہے۔
-
کتاب العلل: آپ نے کتاب کے آخر میں “کتاب العلل” شامل کی جو علمِ حدیث کا قیمتی سرمایہ ہے۔
حل شدہ پرچہ چہارم: سنن ابی داؤد و آثار السنن (عالمیہ سال دوم)
سوال نمبر 1: قربانی کے احکام اور جانور کی عمر
سوال: حدیثِ مبارکہ “لا تذبحوا إلا مسنة…” کی روشنی میں “مسنہ” اور “جذعہ” کی تعریف، ائمہ کا اختلاف اور وجوبِ اضحیہ پر بحث کریں۔
جواب:
-
تعریف:
-
مسنہ (Musinnah): وہ جانور جو “ثنی” (دودانتا) ہو گیا ہو۔ اونٹ 5 سال، گائے 2 سال اور بکری 1 سال مکمل کر چکی ہو۔
-
جذعہ (Jadh’ah): وہ دنبہ یا بھیڑ جو 6 ماہ کا ہو چکا ہو مگر اتنا صحت مند ہو کہ سال بھر والوں میں کھڑا ہو تو الگ نہ پہچانا جائے۔
-
-
حکمِ قربانی (ائمہ کا اختلاف):
-
احناف: ان کے نزدیک بھیڑ اور دنبے کا جذعہ قربانی کے لیے کافی ہے، چاہے مسنہ میسر ہو یا نہ ہو۔
-
ائمہ ثلاثہ (شافعی، مالکی، حنبلی): حدیث کے ظاہری لفظ کی وجہ سے فرماتے ہیں کہ جذعہ صرف اس صورت میں جائز ہے جب مسنہ نہ مل رہا ہو۔
-
-
وجوبِ اضحیہ:
-
احناف: قربانی ہر صاحبِ نصاب، مقیم، مسلمان پر واجب ہے۔
-
شوافع: ان کے نزدیک یہ سنتِ مؤکدہ ہے۔ مسافر اور حج کرنے والے مسافر پر احناف کے نزدیک قربانی واجب نہیں۔
-
سوال نمبر 2: جہاد اور صلاۃ الخوف
سوال: صلاۃ الخوف کی کیفیت، اخلاقیاتِ جہاد اور جدید بین الاقوامی معاہدات پر بحث کریں۔
جواب:
-
صلاۃ الخوف کی کیفیت: جب میدانِ جنگ میں دشمن سامنے ہو، تو امام ایک جماعت کو ایک رکعت پڑھاتا ہے (جبکہ دوسری جماعت پہرہ دیتی ہے) پھر وہ جماعت دشمن کے سامنے چلی جاتی ہے اور دوسری جماعت آکر دوسری رکعت پڑھتی ہے۔
-
احناف: ان کے نزدیک صلاۃ الخوف کی وہی کیفیت راجح ہے جو قرآن میں ذکر ہوئی، اور یہ صرف حالتِ جنگ میں جائز ہے۔
-
-
اخلاقیاتِ جہاد: اسلام میں عورتوں، بچوں، بوڑھوں، راہبوں اور فصلوں کو نقصان پہنچانا حرام ہے۔ آپ ﷺ نے دشمن کی لاشوں کا مثلہ کرنے (کان ناک کاٹنے) سے بھی سختی سے منع فرمایا۔
-
بین الاقوامی معاہدات: اسلام عہد کی پاسداری کا حکم دیتا ہے۔ اگر کسی ملک سے امن کا معاہدہ ہو تو اس کی خلاف ورزی جائز نہیں۔ فلسطین جیسے مظلوم مسلمانوں کی مدد کرنا پوری امت پر حسبِ استطاعت فرض ہے۔
سوال نمبر 3: طہارت اور مسح علی الخفین
سوال: منی کا حکم، منی و مذی میں فرق اور مسح علی الخفین کے احکام بیان کریں۔
جواب:
-
منی کا حکم:
-
احناف: منی ناپاک ہے، لیکن اگر خشک ہو جائے تو کھرچنے (فرک) سے کپڑا پاک ہو جاتا ہے۔
-
شوافع: منی ان کے نزدیک پاک ہے، کیونکہ یہ انسان کی اصل ہے۔
-
-
منی، مذی اور ودی میں فرق: منی شہوت سے اچھل کر نکلتی ہے اور غسل فرض کرتی ہے۔ مذی جوشِ شہوت پر نکلنے والا پتلا مادہ ہے جو صرف وضو توڑتا ہے۔ ودی پیشاب کے بعد نکلتی ہے، اس سے بھی صرف وضو ٹوٹتا ہے۔
-
مسح علی الخفین: موزوں پر مسح کرنا سنتِ متواترہ سے ثابت ہے۔
-
طریقہ: ہاتھ کی انگلیاں تر کر کے موزوں کے اوپری حصے پر انگلیوں کے نشانات ڈالنا مسنون ہے۔
-
مدت: مقیم کے لیے ایک دن ایک رات (24 گھنٹے) اور مسافر کے لیے تین دن تین رات (72 گھنٹے)۔
-
سوال نمبر 4: نماز کے اختلافی مسائل (رفع یدین و آمین)
سوال: آثار السنن کی روشنی میں ترکِ رفع یدین اور آمین بالسر پر احناف کے دلائل دیں۔
جواب:
-
رفع یدین:
-
احناف: صرف شروع کی تکبیر میں ہاتھ اٹھانا سنت ہے۔ رکوع میں جاتے اور اٹھتے وقت ہاتھ نہ اٹھانا بہتر ہے۔ دلیل: حضرت ابن مسعودؓ کی روایت کہ “میں نے حضور ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، آپ نے صرف شروع میں ہاتھ اٹھائے”۔
-
-
آمین بالسر (آہستہ آمین):
-
احناف: آمین آہستہ کہنا سنت ہے۔ دلیل: آمین ایک دعا ہے اور قرآن کا حکم ہے “ادعوا ربكم تضرعا وخفية” (اپنے رب کو عاجزی اور پوشیدہ طور پر پکارو)۔
-
-
جلسہ استراحت: سجدوں کے بعد قیام سے پہلے بیٹھنا احناف کے نزدیک بڑھاپے یا بیماری کی وجہ سے تھا، یہ مستقل سنت نہیں ہے۔
سوال نمبر 5: امام ابوداؤدؒ اور ان کی سنن کا مقام
سوال: امام ابوداؤدؒ کی سوانح اور ان کی کتاب کی خصوصیات بیان کریں۔
جواب:
-
سوانح: امام ابوداؤدؒ (متوفی 275ھ) سجستان کے رہنے والے تھے اور امام احمد بن حنبلؒ کے شاگرد تھے۔
-
خصوصیات:
-
آپ نے اپنی سنن میں صرف احادیثِ احکام (فقہی احادیث) کو جمع کیا۔
-
اگر کسی حدیث میں ضعیف راوی ہوتا تو آپ اس کی وضاحت فرما دیتے۔
-
محدثین فرماتے ہیں کہ فقیہ بننے کے لیے سنن ابی داؤد کافی ہے۔
-
حل شدہ پرچہ پنجم: سنن نسائی و ابن ماجہ (عالمیہ سال دوم)
القسم الأول: سنن نسائی
سوال نمبر 1: احکامِ میاہ (پانی کے احکام) اور عورت کا جھوٹا
سوال: عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی کے استعمال اور کتے کے برتن میں منہ ڈالنے کے احکام پر بحث کریں۔
جواب:
-
عورت کا جھوٹا (Surplus water of a woman): حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے اپنی زوجہ کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے وضو کیا۔
-
احناف کا موقف: اگر عورت نے تنہائی میں پانی استعمال کیا ہو تو اس کے بچے ہوئے پانی سے مرد کا وضو کرنا مکروہِ تنزیہی (خلافِ اولیٰ) ہے، یعنی جائز ہے مگر بچنا بہتر ہے۔
-
ائمہ ثلاثہ: یہ مطلقاً جائز ہے، کیونکہ پانی استعمال کرنے سے ناپاک نہیں ہوتا۔
-
-
کتے کا جھوٹا: حدیث میں ہے کہ کتا برتن میں منہ ڈال دے تو اسے سات بار دھویا جائے۔
-
شوافع: کتا نجاستِ غلیظہ ہے، لہٰذا سات بار دھونا اور ایک بار مٹی سے مانجھنا فرض ہے۔
-
احناف: ان کے نزدیک تین بار دھونا واجب ہے تاکہ نجاست زائل ہو جائے۔ سات بار کا حکم ابتداءِ اسلام میں تاکید اور صفائی کی عادت ڈالنے کے لیے تھا۔
-
سوال نمبر 2: فضائلِ مساجد اور تحویلِ قبلہ
سوال: مسجدِ تقویٰ کی حقیقت اور قبلہ کی تبدیلی کے واقعے پر نوٹ لکھیں۔
جواب:
-
مسجدِ تقویٰ: قرآن کی آیت “لمسجد أسس على التقوى” کے بارے میں صحیح قول یہ ہے کہ اس سے مراد مسجدِ نبوی ہے (جیسا کہ صحیح مسلم کی حدیث میں صراحت ہے)، اگرچہ مسجدِ قباء کی بنیاد بھی تقویٰ پر رکھی گئی تھی۔
-
تحویلِ قبلہ: ہجرت کے تقریباً 16 یا 17 ماہ بعد نمازِ عصر یا ظہر کے دوران قبلہ تبدیل کرنے کا حکم آیا۔ آپ ﷺ بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھا رہے تھے کہ وحی نازل ہوئی اور آپ ﷺ نے دورانِ نماز ہی اپنا رخ کعبہ کی طرف پھیر لیا۔
-
تین مساجد: صرف تین مساجد کی طرف ثواب کی نیت سے سفر کرنا جائز ہے: مسجدِ حرام، مسجدِ نبوی اور مسجدِ اقصیٰ۔
القسم الثاني: سنن ابن ماجہ
سوال نمبر 3: عقائد، تقدیر اور فتنہ دجال
سوال: “لا عدویٰ” کی حقیقت اور دجال سے بچنے کی تدابیر بیان کریں۔
جواب:
-
لا عدویٰ ولا طیرۃ: اس کا مطلب ہے کہ بیماری اپنی ذات میں متعدی (چھوت والی) نہیں ہوتی بلکہ اللہ کے حکم سے لگتی ہے۔ دیہاتی کے سوال پر کہ “تندرست اونٹوں کو خارش زدہ اونٹ کے پاس رکھنے سے خارش لگ جاتی ہے”، آپ ﷺ نے فرمایا: “پہلے اونٹ کو کس نے خارش لگائی؟” یعنی اصل مسبب اللہ کی ذات ہے۔
-
ایمان اور حیا: حیا ایمان کی اہم شاخ ہے۔ حدیث میں ہے: “إذا لم تستحي فاصنع ما شئت” (جب تم میں حیا نہ رہے تو جو چاہے کرو)۔
-
دجال سے بچاؤ: دجال کے فتنے سے بچنے کے لیے سورہ کہف کی ابتدائی دس آیات کی تلاوت اور نماز میں فتنہ دجال سے پناہ مانگنا مسنون ہے۔
سوال نمبر 4: کتاب الفرائض اور دیت (خون بہا) کے احکام
سوال: قتل کی اقسام اور ان کی دیت کا نصاب کیا ہے؟
جواب:
-
قتل کی اقسام:
-
قتلِ عمد: جان بوجھ کر ہتھیار سے مارنا۔ اس میں قصاص (جان کے بدلے جان) ہے۔
-
شبه عمد: ایسی چیز سے مارنا جو عموماً مارنے کے لیے استعمال نہیں ہوتی (جیسے کوڑا یا ڈنڈا)۔ اس میں دیتِ مغلظہ ہے۔
-
قتلِ خطا: نشانہ چوک کر کسی انسان کو لگ جانا۔ اس میں دیتِ مخففہ ہے۔
-
-
دیت کا نصاب: انسانی جان کی دیت 100 اونٹ ہے۔ اگر چاندی سے دی جائے تو 10,000 درہم اور سونے سے 1,000 دینار۔
سوال نمبر 5: فضائلِ علم اور تلاوتِ قرآن
سوال: “طلب العلم فريضة” کی تشریح اور قرآن پڑھنے والوں کی مثالیں لکھیں۔
جواب:
-
فرضیتِ علم: ہر مسلمان پر اتنا علم حاصل کرنا فرض ہے جس سے وہ اپنی روزمرہ زندگی کے شرعی احکام (نماز، روزہ، حلال و حرام) جان سکے۔
-
چار مثالیں:
-
مومن قاری: سنگترے (Utrujjah) کی طرح (خوشبو اور ذائقہ دونوں عمدہ)۔
-
مومن غیر قاری: کھجور کی طرح (خوشبو نہیں مگر ذائقہ میٹھا)۔
-
منافق قاری: ریحانہ (خوشبو اچھی مگر ذائقہ کڑوا)۔
-
منافق غیر قاری: اندرائن (بو بھی کڑوی اور ذائقہ بھی زہریلا)۔
-

Ok